| وقفِ مدینہ |
٭رابعًاطبائع(طَ۔با۔اِع یعنی طبیعتیں)طلباء کی جانچ ہو جو جس کام کے زیادہ مناسب دیکھا جائے معقول وظیفہ دیکر اس میں لگایا جائے ۔یوں ان میں کچھ مدرسین بنائے جائیں ،کچھ واعظین،کچھ مصنفین ،کچھ مناظرین ،پھر تصنیف ومناظرہ میں بھی توزیع (تَو۔زیع یعنی بانٹنا)ہو،کوئی کسی فن پر کوئی کسی پر۔ ٭خامسًا ان میں جو تیار ہوتے جائیں تنخواہیں دے کر ملک میں پھیلائے جائیں کہ تحریراً و تقریراً وعظاً و مناظرۃًاشاعت دین و مذہب کریں ۔( فتاوی رضویہ جدید جلد ۲۹ص ۵۹۹ )
قبولیّت کا پروانہ
جب آیت
لِلْفُقَرَآءِ الَّذِیۡنَ اُحۡصِرُوۡا الخ
(آخر تک) نازل ہوئی تو حضرت سَیِّدُناعبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اصحابِ صُفّہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے پاس دن کے وقت بہت سے دِینار(سونے کے سکّے) بھیجے اور اَمیرُالمومِنین حضرت سَیِّدُنا عَلیُّ الْمُرتضیٰ،شیرِ خدا رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک وَسق(0 6 صاع)کھجوریں بھیجیں تو ان دونوں صاحِبوں(رضی اللہ تعالیٰ عنہما ) کو قبولیت کا پروانہ عطا ہوا۔(تفسیرِ نعیمی ج۳ ص۱۴۳)