| وقفِ مدینہ |
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی توجہ اصحابِ صُفّہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی طرف مبذول کرائی لیکن یہ حکم اِن کے لیے مخصوص نہیں۔دورِ حاضر میں بھی جو لوگ خِدمتِ دین میں مشغول رہتے ہیں اور اِس مشغولیّت کی بِناء پر کسبِ معاش(کاروبار وغیرہ) کے لئے وقت نہیں نکال سکتے، اُن کے متعلق بھی یہی حکم ہے کہ اُ ن کی مالی خِدمت کی جائے۔
امام اہلسنت اعلیٰ حضرت رحمۃ الرحمن رحمۃ الرحمن کا فرمان
امام اہلسنت، اعلحضرت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن نے اپنے فتاوی میں خدمت دین کے حوالے سے کچھ نکات تحریر فرمائے ہیں ان میں سے کچھ اِقتباس (اِق۔تِ۔باس یعنی چُنا ہو ا کلام)ملاحظہ فرمائیے : ٭اولاً :(اَو۔وَ۔لن یعنی سب سے پہلے)عظیم الشان مدارِس کھولے جائیں۔ باقاعدہ تعلیمیں ہوں۔ ٭ثانیاً طلباء کو وظائف ملیں کہ خواہی نخواہی(یعنی ناچار) گرویدہ ہوں۔ ٭ثالثاً مدرّسوں کی بیش قرار تنخواہیں ان کی کاروائیوں پر دی جائیں کہ لالچ سے جان توڑ کر کوشش کریں ۔