| وقفِ مدینہ |
تبارک وتعالیٰ نے اصحابِ صُفّہ کے اِس عمل کی تعریف فرمائی کہ وہ سخت ضرورت اور بھوک و پیاس کے باوجود اپنی خُود داری کے سبب کسی کے سامنے دستِ سُوال دراز نہ کرتے تھے،جس بِناء پر ناواقف لوگ انہیں مالدار اور خوش حال سمجھتے تھے۔اصحابِ صُفّہ کے فقر کی پہچان اِن کی طرزِ پریشانی اور قدرتی علامات سے تھی کہ ان کے چہروں پر فاقوں کے آثار،آواز یں کمزور اور رفتار میں ضُعف تھا۔ (تفسیرِ نعیمی ج۳ ص ۱۳۹)
خدمت دین کیلئے وقف ہونے والے کو خود دار ہونا چاہیے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اصحابِ صفہ علیہم الرضوان اگرچہ فقروفاقہ کے دن گزارتے مگر کسی لمحہ بھی خودداری کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑتے جیساکہ مندرجہ بالا روایت سے معلوم ہوا اس میں ہمارے ان مبلغین کیلئے رہنمائی کے مُشکبارمدنی پھول ہیں جو کہ خدمتِ دین کیلئے اپنے آپ کو وقف کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں، اس ضمن میں مشکوٰۃ شریف کی ایک روایت ملاحظہ فرمائیے :
عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ یُّکَفِّلُ لِیْ اَنْ لَّا یَسْاَلَ النَّاسَ شَیْئًا فَاَتَکَفَّلُ لَہٗ بِا الْجَنَّۃِ فَقَالَ ثَوْبَانُ اَنَا فَکَانَ لَا یَسْاَلُ شَیْئًا ۔(مرأۃ شرح مشکوٰۃ،ج۳ص۶۸)
ترجمہ:حضرت سیدناثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ا للہ عزوجل و صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:'' جو مجھے اس کی ضمانت دے کہ لوگو ں سے کچھ نہ مانگے گا تو میں اس کے لئے جنّت کا ضامن ہوں'' حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں تو کسی سے کچھ نہیں مانگتا تھا۔