حضرتِ صدر الافاضل مولانا مُفتی سید حافظ محمد نعیم الدین مُراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الھادی ان آیات کی تفسیر بیان کرتے ہوئے تفسیر ِ''خزائن العرفان''میں لکھتے ہیں:''یعنی صدقاتِ مذکورہ جو آیہ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ میں ذِکر ہوئے ان کا بہترین مصرف وہ فقراء ہیں جنہوں نے اپنے نفوس کو جہاد و طاعتِ الٰہی پر روکا۔
شانِ نزول:یہ آیت اہلِ صُفّہ کے حق میں نازل ہوئی ،ان حضرات کی تعداد 400 کے قریب تھی۔یہ ہجرت کر کے مدینہ طیبہ حاضر ہوئے تھے،نہ یہاں ان کا مکان تھا نہ قبیلہ کنبہ نہ ان حضرات نے شادی کی تھی۔ان کے تمام اوقات عبادت میں صرف ہوتے تھے،رات میں قرآنِ کریم سیکھنا دن میں جہاد کے کام میں رہنا۔آیت میں ان کے بعض اوصاف کا بیان ہےo کیونکہ انہیں دینی کاموں سے اتنی فرصت نہیں کہ وہ چل پھر کر کسبِ معاش کر سکیںoیعنی چونکہ وہ کسی سے سوال نہیں کرتے اس لئے ناواقف لوگ انہیں مالدار خیال کرتے ہیںoکہ مزاج میں تواضع و انکسار ہے ،چہروں پر ضعف کے آثار ہیں،بھوک سے رنگ زرد پڑ گئے ہیں۔'' (تفسیر خزائن العرفان)