Brailvi Books

وقفِ مدینہ
25 - 84
 نے کھائیں اور جو باقی رہ گئیں ان کے بارے میں فرمایا،اے ابو ہریرہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)!ان کو اپنے تَوشہ دان میں رکھ لواور جب چاہو ہاتھ ڈال کر ان میں سے نکال لیا کرو لیکن تَوشہ دان نہ اُنڈیلنا!حضرتِ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور سرورِ کائنات،شاہِ موجودات صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی ظاہری حیاتِ مُبارَکہ کے زمانے میں اورحضرتِ سیدنا ابو بکر صِدیق اور حضرتِ سَیِّدُ نا عمر فاروق ِ اعظم اور حضرتِ سیِّدُنا عثمانِ غنی علیہم الرضوان کے عہدِ خِلافت تک ان ہی کھجوروں سے کھاتا رہا۔اور خرچ کرتا رہا تخمیناً(یعنی اندازاً)50 وسْق تو فی سبیل اللہ عَزَّوَجَلَّ دیں اور200 وسْق سے زیادہ میں نے کھائیں۔جب حضرتِ سیِّدُنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ شہید ہو گئے تو وہ تَوشہ دان میرے گھر سے چوری ہو گیا۔ (فیضانِ سنّت ص ۳۹۵ )

اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صَدقے ہماری مغفرت ہو۔
کون دیتا ہے دینے کو منہ چاہے

دینے والا ہے سچا ہمارا نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم

                                    (حدائقِ بخشش شریف)
   میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!وسْق60صاع کا اور ایک صاع 270تولہ (یعنی
3 سیر 6چھٹانک)کا ہوتا ہے۔اِس حساب سے اُن کھجوروں میں سے 1000 مَن سے زائد کھجوریں کھائی گئیں۔یہ سب اللہ عَزَّوَجَلَّ کی شانِ کرم ہے کہ اُس نے اپنے پیارے حبیبِ مکرّم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کو بے شُمار اِختیارات اور عظیمُ الشّان معجزات سے نوازا۔
Flag Counter