| وقفِ مدینہ |
کے مِنبرِ مُنَّور اور اُمُّ الْمُؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائِشہ صِدّیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حجرہ مُطہَّرہ کے درمیان بیہوش ہو کر گر پڑتا۔ کوئی آدَمی آتا اور میری گردن پر پاؤں رکھ دیتا ۔ وہ سمجھتا کہ مجھ پر جُنُون کی کیفیّت طاری ہے حالانکہ مجھے جُنُون وغیرہ کچھ نہ ہوتا يہ حالت بھوک کی وجہ سے ہوتی تھی۔''(فیضانِ سنّت صفحہ نمبر ۶۹۵ )
بخش دے میری ہر خطا یا ربّ!(جَلَّ جَلَالُہٗ) فاقہ مستوں کا واسطہ یا ربّ!(جَلَّ جَلَالُہٗ)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حضرتِ سیِّدُنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا عِلمی ذوق تھا کہ سب کچھ چھوڑ کر سرورِ کونین ، رَحْمتِ دارَیْن، راحتِ قلب بے چین، نانائے حَسَنَین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم و رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے قدمَینِ شریفَین میں پڑے رہتے تھے۔ فاقوں پر فاقے سہتے اور علم حاصل کرتے تھے اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی کو يہ اعزاز حاصل ہے کہ سب سے زیادہ احادیث ِمبارکہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مَروی ہیں۔
خوب شکَم سیری ، خواہِشِ ناموری ، حِرص وطَمع اور حُبِّ جاہ کی نُحُوسَتوں کی آلودَگیوں کے ساتھ تعلیم و تعلُّم میں رُوحانِیَّت کے مُتَلاشِیوں کو منزِل ملنا ایک اَمرِ دُشوار ہے ۔ تَحصیلِ علمِ دین میں سراپا اِخلاص بن جائيے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی خوب رَحْمتیں لوٹئے۔ الحمد للہ عَزَّوَجَلَّ َّ تبلیغِ قراٰن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے سنّتوں کی تربیّت کے مَدَنی قافِلوں کے ذریعے بھی عِلم حاصِل ہوتا اور بے شمار بَرَکتیں نصیب ہوتی ہیں، دعوتِ اسلامی کے مَدنی قافِلے کی بہار ملاحَظہ فرمائيے :