پیتا اور کچھ قوّت حاصل کرتا۔جب اصحابِ صُفّہ (علیہم الرضوان) آجائيں گے تو سرکارِ نامدار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم مجھے ہی ارشاد فرمائيں گے ، کہ ان کو دودھ پیش کرو۔ اِس صورت میں بَہُت مشکِل ہے کہ دودھ کے چند گُھونٹ مجھے میسَّر ہوں۔ لیکن اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی اِطاعت کے بغیر چارہ نہ تھا۔ میں اصحابِ صُفّہ (علیھم الرضوان) کے پاس گیا اور اُن کو بُلایا۔ وہ آئے ، انہوں نے شہنشاہِ عرب ، محبوب رب عَزَّوَجَلَّ وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم سے اجازت طلب کی ۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اجازت عطا فرمائی اور وہ گھر میں حاضر ہو کر بیٹھ گئے۔ میٹھے میٹھے آقا ،مدینے والے مصطفٰے صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا، ''ابو ہریرہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)!'' میں نے عرض کی ، لَبَّیْکَ یَا رَسُولَ اللہ (عَزَّوَجَلَّ و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم ) فرمایا،'' پیالہ پکڑو اور ان کو دودھ پِلاؤ۔ '' حضرتِ سیِّدُنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں میں نے پیالہ پکڑا۔ میں وہ پیالہ ایک شخص کو دیتا وہ سَیر ہو کر دودھ پیتا اور پھر پیالہ مجھے لوٹا دیتا ۔ حتّٰی کہ میں پلاتا پلاتا آقائے مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم تک پہنچا اور تمام لوگ سَیر ہو چکے تھے۔ سرکارصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے پیالہ لے کر اپنے دستِ اقدس پر رکھا۔ پھر میری طرف دیکھ کر تبسم فرمایا، اور فرمایا ،''ابو ہریرہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)! میں نے عرض کی ، لَبَّیْکَ یَا رَسُولَ اللہ (عَزَّوَجَلَّ وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم ) فرمایا، اب میں اور تم باقی رہ گئے ہیں۔ '' عرض کی، یا رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے سچ فرمایا،فرمایا،''بیٹھو اور پیو'' میں بیٹھ گیا اور دودھ پینے لگا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم