اور میرا چہرہ دیکھ کر میری حالت سمجھ گئے۔ فرمایا، اے ابو ہریرہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) ! میں نے عرض کی ، لَبَّیْکَ یَا رَسُولَ اللہ (عَزَّوَجَلَّ وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم)فرمایا ، میرے ساتھ آجاؤ۔ میں پیچھے پیچھے چل دیا، جب شَہَنشاہِ بَحْرو بَر ، مدینے کے تاجور ، ساقی حوضِ کوثر ،حبیبِ داوَرعَزَّوَجَلّ َوصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم اپنے مبارک گھر پر جلوہ گر ہوئے تو اجازت لیکر میں بھی اندر داخِل ہو گیا ۔ سرورِ کائنات ، شاہِ موجودات صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ایک پیالے میں دودھ دیکھا تو فرمایا، ''يہ دودھ کہاں سے آیا ہے ؟ اَہْلِ خانہ نے عرض کی ، فُلاں صَحابی یا صَحابیہ نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کیلئے ہَدِیَّۃً بھیجا ہے ۔ فرمایا، ابو ہریرہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)! میں نے عرض کی ،لَبَّیْکَ یَا رَسُولَ اللہ (عَزَّوَجَلَّ نوصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم) فرمایا، جاکر اَہْلِ صُفّہ کو بُلا لاؤ۔'' حضرتِ سیِّدُنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں، کہ اہلِ صُفّہ علیہم الرضوان اسلام کے مِہمان ہیں، نہ اُن کو گھر بار سے رغبت ہے نہ مال و دولت سے اور نہ وہ کسی شخص کا سہارا لیتے ہیں۔جب مَحبوبِ ربِّ ذُوالْجَلال عَزَّوَجَلَّ وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے پاس صَدَقہ کا مال آتا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم ان کی طرف بھیج دیتے اور خود اس میں سے کچھ نہیں لیتے تھے۔ اور جب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے پاس کوئی ھَدِیَّہ آتا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم ان کے پاس بھيجتے اس میں سے خود بھی استعمال کرتے اور ان کو بھی شریک فرماتے ۔ مجھے يہ بات گِراں سی گزری اور دل میں خیال آیا، اَہْلِ صُفّہ (علیہم الرضوان) کا اِس دُودھ سے کیا بنے گا، میں اس کا زیادہ مستحق تھا کہ اس دودھ سے چند گھونٹ