Brailvi Books

والدین، زوجین اور اساتذہ کے حقوق
112 - 119
مراد وہ شخص ہے جو علم کلام کے مختلف فنون میں ضرورت سے زیادہ مشغولیت رکھتا ہو اور شکوک وشبہات کی کثرت میں عمرِ عزیز کو ضائع کردے، یہ مطلب امام ہندوانی نے بیان فرمایا، علامہ عبد الغنی نابلسی ''حدیقہ ندیہ'' میں فرماتے ہیں کہ:
المروي عن أبي یوسف رحمہ اللہ تعالٰی أنّ إمامۃ المتکلّم وإن کان بحقّ لا تجوز محمول علی الزائد علی قدر الحاجۃ والمتوغل فیہ کما قیل من طلب الدین بالکلام تزندق ولا یرید المتکلّم علی قانون الفلاسفۃ؛ لأنّہ لا یطلق علٰی مباحثھم علم الکلام لخروجہ عن قانون الإسلام وھو من أجزاء الحدّ، کما في ''البزازیۃ''(۱)
امام ابو یوسف سے جو یہ روایت نقل کی گئی ہے کہ متکلم اگرچہ صحیح عقائد رکھتا ہو اس کی امامت ناجائز ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص ضرورت سے زیادہ علمِ کلام میں توجّہ اور حد درجہ کا شغف رکھتا ہو اس کے پیچھے نماز ناجائز ہے کہا گیا ہے کہ جس نے کلام کے ذریعے علمِ دین کو طلب کیا وہ زندیق(بے دین) ہو گیا متکلم سے امام ابو یوسف کی مراد وہ شخص نہیں جو فلاسفہ کے قانون پر کلام کرتا ہو کیونکہ فلسفیوں

کی ابحاث کو علمِ کلام نہیں کہاجاتا کیونکہ وہ تو قانونِ اسلام ہی سے خارج ہیں اور یہ اجزاء حد میں سے ہے، جیسا کہ ''بزازیہ'' میں ہے۔

    جب علم کلام میں غلو کرنیوالوں کے پیچھے نمازنا جائز ہے تو فلسفے کے دعویداروں
 (1)..... ''الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیۃ''، النوع الثاني من الأنواع الثلاثۃ في العلوم المنھي عنھا، ج۱، ص۳۳۲۔
Flag Counter