Brailvi Books

والدین، زوجین اور اساتذہ کے حقوق
111 - 119
مطلب ہے۔ علامہ حسن شرنبلالی ''نور الایضاح'' کی شرح ''مراقی الفلاح'' میں اور علامہ سید احمد طحطاوی نے ''حاشیہ مراقی'' میں بھی اسی طرح فرمایا، سبحان اللہ! جب اس شخص کی امامت درست نہیں جس میں ایک فسق پایاجاتا ہو تو اس شخص کو امام بنانا کس طرح درست ہوگا جس میں کئی وجہ سے فسق پایا جاتا ہے اور بعض وجہیں کفر تک پہنچاتی ہیں
 (نعوذ باللہ من ذلک)
کیا کچھ گنجائش ہے کہ علماء ایسے شخص کے امام بنانے کو جائز رکھیں یا اس کی اقتداء کے ناجائز ہونے میں کچھ اختلاف کریں یہ درست ہے کہ فاسق کے پیچھے نماز ہونے کی ایک صورت ہے لیکن جس شخص کے اسلام ہی میں اختلاف پایا جاتا ہو اس کی امامت کو کون حلال گمان کریگا؟ کیا تجھے خبر نہیں کہ اسے امام بنانے میں اسکی تعظیم ہے اور وہ شرعاً قطعی طور پر حرام ہے اس کے باوجود ہمارے علماء امام ابو یوسف رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ متکلمین کی امامت جائز نہیں اگرچہ ان کا عقیدہ صحیح ہو جیسے کہ امام اجل ہندوانی زاہدی صاحبِ ''قنیہ'' و''مجتبیٰ''، امام بخاری صاحبِ ''خلاصہ'' اور ابنِ ہمام صاحب ِ''فتح القدیر'' نے نقل کیا(۱)، امام الائمہ شمس الائمہ حلوائی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے فتویٰ میں جو ان کے خط مبارک سے پایا گیا یہی بات لکھی ہے جیسے کہ ''خلاصہ'' میں ہے(۲) اس روایت کو تمام ائمہ کاملین نے قبول کیا اور اس کی مراد مختلف طریقوں سے بیان فرمائی ہے، اکثر اس طرف گئے ہیں کہ اس جگہ متکلم سے
(1)..... ''فتح القدیر''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، ج۱، ص۳۰۴۔

(2)..... ''خلاصۃ الفتاوی''، کتاب الصلاۃ، الفصل الخامس عشر في الإمامۃ... إلخ، ج۱، ص۱۴۹۔
Flag Counter