Brailvi Books

والدین، زوجین اور اساتذہ کے حقوق
110 - 119
تاہم انھیں پر اکتفاء کیا جاتا ہے زیادہ کی ضرورت نہیں۔ اب مسلمانوں کو غور کرنا چاہئے کہ شریعتِ مقدسہ نے فاسق کی امامت کو پسند نہیں کیا حتی کہ بہت سے علماء نے اسے مکروہ تحریمی اور حرام کے قریب فرمایا ہے اور ایسے شخص کو امام بنانے والوں کو گناہِ عظیم میں مبتلا قراردیا ہے، علامہ ابراہیم حلبی ''کبیری شرح منیہ'' میں ''فتاوٰی الحجہ'' سے نقل کرکے فرماتے ہیں:
فیہ إشارۃ إلی أنّھم لو قدّموا فاسقاً یأثمون بناء علی أنّ کراھۃ تقدیمہ کراھۃ تحریم لعدم اعتنائہ بأمور دینہ وتساھلہ في الإتیان بلوازمہ فلا یبعد منہ الإخلال ببعض شروط الصلاۃ وفعل ما ینافیھا بل ھو الغالب بالنظر إلی فسقہ ولذا لم تجز الصلاۃ خلفہ أصلا ًعند مالک وروایۃ عن أحمد(۱)
اس میں اشارہ ہے کہ فاسق کو امام بنانے والے گنہگار ہونگے کیونکہ اسے امام بنانا مکروہ تحریمی ہے؛ اس لئے کہ وہ امورِ دین کا کوئی خاص خیال نہیں کرتا اور شریعت کے لازمی امور کے ادا کرنے میں سُستی سے کام لیتا ہے کچھ بعید نہیں کہ وہ نماز کی بعض شرطوں کو بھی ترک کردے اور نماز کے مخالف کوئی کام کر بیٹھے بلکہ اس کے فسق کے پیشِ نظر یہی 

غالب گمان ہے؛ اسی لئے امام مالک کے نزدیک اور امام احمد سے ایک روایت یہ ہے کہ اس کے پیچھے نماز بالکل جائز نہیں۔

    ''تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق'' میں امام زیلعی کے ارشاد کا بھی یہی
(1) ''غنیۃ المتملي في شرح منیۃ المصلّي''، فصل في الإمامۃ، ص۵۱۳/۵۱۴۔
Flag Counter