Brailvi Books

والدین، زوجین اور اساتذہ کے حقوق
109 - 119
من قال: أحسنت لما ھو قبیح شرعاً أوجودت کفر(۱)
 (جس شخص نے شرعی قبیح کے مرتکب کو کہا کہ تونے اچھا کیا تو وہ کافر ہوگیا)

    اے رب! شاید یہ فلسفے کے دعویدار اپنے اوپر رحم نہیں کرتے کہ حرام فعل کی بناء پر فخر اور تکبر کرتے ہیں،
 (کَلاَّ بَلْ رَانَ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ مَّا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ)(2)
ونسأل اللہ العافیۃ۔
کوئی نہیں بلکہ انکے دلوں پر زنگ چڑھا دیا ہے ان کی کمائیوں نے۔
    بستم:
فلسفے کی فضیلت کو ترجیح دینا (فقہ کی فضیلت پر ) کیونکہ امامت کے زیادہ لائق ہونے کے دعویٰ کی یہی و جہ ہو سکتی ہے اس میں ضمناً علم دین کی توہین ہے جیسے کہ ظاہر ہے اور علمِ دین کی صراحتًا توہین کفر ہے یہاں چونکہ یہ بات ضمناً آگئی ہے اس لئے یہی کہا جائے گا کہ علمِ دین کی توہین لازم آئی ہے اس شخص نے اس کا التزام نہیں کیا (اس لئے کفر کا قول نہیں کیا جائے گا)جیسے کہ ہم نے ''مقامع الحدید''(۳) میں بیان کیا۔

    یہ بیس عمدہ اور بہترین وجہیں فقیہ کے لئے مفید اور بیوقوف کے لئے تباہ کن، قلم برداشتہ فی البدیہ لکھ دی گئی ہیں اگر مزید غور کیا جائے تو اور وجوہ بھی ظاہر ہو سکتی ہیں
(1)..... ''شرح ملاّ علي القاري علی الفقہ الأکبر''، فصل في الکفر صریحاً وکنایۃ، ص۱۸۹۔

(2)..... پ۳۰، المطففین: ۱۴۔

(3)..... سیدی اعلٰحضرت علیہ رحمۃ الرحمن کا یہ رسالہ ''مقامع الحدید علی خدّ المنطق الجدید'' فتاویٰ رضویہ(جدیدہ) ستائیسویں جلد میں موجود ہے جس میں آپ علیہ الرحمۃ نے مولوی محمد حسن سنبھلی کی خرافات فلسفلہ پر مشتمل کتاب''المنطق الجدید لناطق النالہ الحدید'' کا رد ِبلیغ فرمایا ہے۔
Flag Counter