اگر موسیٰ علیہ السلام دنیا میں ہوتے توانہیں بھی میری پیروی کے سوا چارہ نہ ہوتا۔
ظاہر ہے کہ جو باتیں عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسی شخصیت کو پسند آتی ہوں وہ ہر گز شریعت کے مخالف نہ ہوں گی اس کے باوجود حضور نے منع فرمایا اور بتادیا کہ شریعتِ مطہرہ کے ہوتے ہوئے کسی اور چیز کی ضرورت نہیں، یہ کس طرح جائز ہوگا کہ صاف و شفاف دریا (شریعتِ مقدسہ) کو پسِ پشت ڈال کر یونان کے کافروں کا دامن تھاما جائے اور گمراہی کے جنگل میں مصیبت کی موت مول لی جائے یہ وہی شخص کر سکتا ہے جس نے اپنے آپ کو حقیر و ذلیل بنا دیا ہو۔ الحاصل یہ فلسفے کا نقصان اور فلسفے کے دعویدار وں کی گمراہی گزشتہ دن اور سورج سے زیادہ ظاہر ہے لھٰذا اس کی حرمت میں صرف وہی شخص شک کریگا جس کا دل بیمار اور ایمان کمزور ہو، نعوذ باللہ من ذلک۔ آئیے تاکہ اصل مطلب کی طرف توجہ دیں کہ مذکور ہ بالا شخص، فلسفے کا دعویدار اُس چیز پر فخر کرتا ہے کہ بناء بریں اپنے آپ کو فضیلت والا اور امامت کے زیادہ لائق سمجھتا ہے جسے علماء نے حرام کہا ہے واضح ہے کہ اس سے بڑھ کر اس فعل حرام کی تعریف وتحسین کیا ہو سکتی ہے! نعوذ باللہ من ذلک اس میں تو ایک پہلو کفر کا بھی نکلتا ہے چنانچہ علماء نے بہت سے مسائل میں تصریح کی ہے، امام اجل ظہیری اور امام فقیہ النفس قاضی خان کے شاگرد امام عبد الرشید بخاری رحمہم اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ''خلاصہ'' میں ہے کہ: