| والدین، زوجین اور اساتذہ کے حقوق |
لئے دین کا راستہ بند کیا ہوا ہے اور فلسفیوں نے دین کی زنجیر اپنے گلے سے اتار پھینکی ہے وہ کب اس لائق ہے کہ اس کا بہت بڑا ثواب گمان کیا جائے اور عمریں اس پر صرف کردی جائیں اور اس کی محبت کو دل میں جگہ دی جائے اس کے باوجود محفوظ رہیں اور شدید غضب کے مستحق نہ ہوں بخدا! اس طرح نہیں ہو سکتا اگرچہ جُھوٹے اسے پسند نہ کریں۔ امام احمد نے ''مسند'' میں اور بیہقی نے ''شعب الایمان'' میں حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سرورِ دوجہاں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوئے کہ:
((إنّا نسمع أحادیث من یھودتعجبنا أفتری أن نکتب بعضھا))(۱)
ہم یہودیوں سے کئی ایسی باتیں سُنتے ہیں جوہمیں اچھی لگتی ہیں کیا ہمیں اجازت ہےکہ ہم ان میں سے کچھ باتیں لکھ لیا کریں؟ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:
((أ متھوکون أنتم کما تھوکت الیھود والنصاری))(۲)
کیا تم دینِ اسلام کے مکمل اور کافی ہونے میں حیران وپریشان ہو کہ دوسروں کی باتوں کی طرف توجہ دیتے ہو جیسے کہ یہودی اور عیسائی اپنے مذہب میں متحیر ہو گئے اور اللہ عز وجل کے دیئے ہوئے پر اکتفاء نہ کر کے اِدھراُدھر مصروف ہو گئے۔
((لقد جئتکم بھا بیضاء نقیۃ))(۳)
میں تمھارے پاس یہ واضح اور پاکیزہ
(1)..... ''شرح السنۃ''، کتاب العلم، باب حدیث أھل الکتاب، الحدیث: ۱۲۶، ج۱، ص۲۱۹۔ (2)..... المرجع السابق۔ (3)..... المرجع السابق۔