کی حالت نہیں دیکھ رہے، تب حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور کے چہرہ انور کو دیکھا اور فوراً کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے غضب سے خدا کی پناہ ہم اللہ کے رب ہونے پراسلام کے دین ہونے پر اور محمد صلّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کینبی ہونے پر راضی ہوئے نبی اکرم صلّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم نے فرمایا:مجھے اس ذات کی قَسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! اگر تم پر موسیٰ علیہ السلام ظاہر ہوتے اور تم مجھے چھوڑ کر ان کی اتباع کرتے تو راہِ راست سے بھٹک جاتے اور اگر موسیٰ علیہ السلام دنیا میں ہوتے اور میری نبوت کے ظہور کے زمانے کو پاتے تو میری پیروی کرتے۔
اب انصاف کی آنکھ کھولنی چاہئے کہ''تورات'' کلامِ الہی ہے اور ''قرآن مجید'' نے اس کی تصدیق کی ہے لیکن صرف اس بناء پر کہ اس میں تحریف ہو چکی ہے اس کا پڑھنا سرورِ عالم صلّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی اس قدرناراضگی کا سبب بنا، یہ مردود فلسفہ جو کہ کفر و ضلالت سے بھرا ہوا اور جہالتوں کا مجموعہ ہے اور جس نے دین کے خادموں کے