Brailvi Books

والدین، زوجین اور اساتذہ کے حقوق
105 - 119
جو امام ابو عبد الرحمان دارمی نے ''سنن'' میں سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی ہے کہ :
((أنّ عمر ابن الخطاب -رضي اللہ تعالٰی عنہ- أتی رسول اللہ -صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم- بنسخۃ من التوراۃ فقال: یا رسول اللہ! ھذہ نسخۃ من التوراۃ فسکت فجعل یقـرأ ووجہ رسول اللہ -صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم- یتغیّر، فقال أبو بکر- رضي اللہ تعالٰی عنہ-: ثکلتک الثواکل ما تری ما بوجہ رسول اللہ صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم- فنظرعمر إلٰی وجہ رسول اللہ- صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم- فقال: أعوذ باللہ من غضب اللہ وغضب رسول اللہ -صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم- رضیناباللہ ربّاً وبالإسلام دیناً
یعنی حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سید عالم صلّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی خدمت میں تورات کا ایک نسخہ لائے اور عرض کی: یا رسول اللہ صلّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم یہ تورات کانسخہ ہے۔سید عالم صلّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم خاموش رہے اور کوئی جواب نہ دیا، عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پڑھنا شروع کردیا، سرور عالم صلّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کا چہرہ مبارک شدتِ غضب کی و جہ سے ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف بدل رہا تھا، حضرت عمر فاروق کو اس کی خبر نہ تھی کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اے عمر! تجھے رونے والی عورتیں روئیں تم نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کے چہرہ انور
Flag Counter