| والدین، زوجین اور اساتذہ کے حقوق |
اگر فلاسفہ کے عقائد کو پسند نہیں کرتا تو فلسفے کا پابند کیوں ہے کبھی ایسا بھی دیکھا ہے کہ انسان ایک چیز کو ناپسند رکھے اورپھر اپنی مرضی سے اپنی تمام عمر اس میں صرف کردے!، راتیں اس کے پیچھے گزار دے اور مدتوں اس کے ساتھ وابستہ رہے اور اس کے حاصل کرنے پر فخر کرے ہرگز نہیں، یہ سب پسندیدگی کی علامتیں ہیں ورنہ دشمن کے ساتھ ایک لحظہ گزارنا بھی مشکل ہوتا ہے۔
یا غراب البین! لیت بیني وبینک بعد المشرقین! وما ذکرہ في الفلسفۃ صحیح، ومن ثمّ قال الأوزاعي رحمہ اللہ تعالٰی: تحریمھا ھو الصحیح الصواب۔ وأمّا ما ذکرہ في المنطق الفلاسفۃ ھو الذي یحرم الاشتغال بہ، ویدلّ لذلک قولہ: کفّ شرّھم، وقولہ: ومعتقد لعقائدھم(۱) اھـ ملتقطاً، وفیہ طول کثیر۔
جدائی کے کوسے (دین سے دور کرنے والے)! کاش میرے اور تیرے درمیان مشرق اور مغرب کا فاصلہ ہوتا! علامہ نے فلسفہ کے متعلق جو فرمایا ہے وہ صحیح ہے، اسی لئے امام اوزاعی نے فرمایا: فلسفے کا حرام ہونا درست ہے۔رہا منطق کا مسئلہ تو فلاسفہ کا منطق پڑھنا حرام، اور علامہ کا وہ کلام کہ ''ان کے شر کے دروازے کو بند کردے'' اور ''وہ فلاسفہ کے عقائدکے قائل ہیں'' اس طرف اشارہ کر رہا ہے اھ ملتقطاً۔ اور اس میں مزید کلام ہے۔
فقیر کہتا ہے کہ فلسفے کے حرام ہونے اور اس کی برائی کی دلیل وہ حدیث ہے(1)..... المرجع السابق۔