Brailvi Books

والدین، زوجین اور اساتذہ کے حقوق
104 - 119
اگر فلاسفہ کے عقائد کو پسند نہیں کرتا تو فلسفے کا پابند کیوں ہے کبھی ایسا بھی دیکھا ہے کہ انسان ایک چیز کو ناپسند رکھے اورپھر اپنی مرضی سے اپنی تمام عمر اس میں صرف کردے!، راتیں اس کے پیچھے گزار دے اور مدتوں اس کے ساتھ وابستہ رہے اور اس کے حاصل کرنے پر فخر کرے ہرگز نہیں، یہ سب پسندیدگی کی علامتیں ہیں ورنہ دشمن کے ساتھ ایک لحظہ گزارنا بھی مشکل ہوتا ہے۔
یا غراب البین! لیت بیني وبینک بعد المشرقین! وما ذکرہ في الفلسفۃ صحیح، ومن ثمّ قال الأوزاعي رحمہ اللہ تعالٰی: تحریمھا ھو الصحیح الصواب۔ وأمّا ما ذکرہ في المنطق الفلاسفۃ ھو الذي یحرم الاشتغال بہ، ویدلّ لذلک قولہ: کفّ شرّھم، وقولہ: ومعتقد لعقائدھم(۱) اھـ ملتقطاً، وفیہ طول کثیر۔
جدائی کے کوسے (دین سے دور کرنے والے)! کاش میرے اور تیرے درمیان مشرق اور مغرب کا فاصلہ ہوتا! علامہ نے فلسفہ کے متعلق جو فرمایا ہے وہ صحیح ہے، اسی لئے امام اوزاعی نے فرمایا: فلسفے کا حرام ہونا درست ہے۔رہا منطق کا مسئلہ تو فلاسفہ کا منطق پڑھنا حرام، اور علامہ کا وہ کلام کہ ''ان کے شر کے دروازے کو بند کردے'' اور ''وہ فلاسفہ کے عقائدکے قائل ہیں'' اس طرف اشارہ کر رہا ہے اھ ملتقطاً۔ اور اس میں مزید کلام ہے۔

    فقیر کہتا ہے کہ فلسفے کے حرام ہونے اور اس کی برائی کی دلیل وہ حدیث ہے
(1)..... المرجع السابق۔
Flag Counter