Brailvi Books

والدین، زوجین اور اساتذہ کے حقوق
103 - 119
الفلسفۃ... إلخ(۱)
فلسفہ۔

علامہ ابن حجر مکی رحمہ اللہ تعالیٰ اپنے ''فتاویٰ'' میں فرماتے ہیں:
وماکان منہ (أي: من الطبیعي) علی طریق الفلاسفۃ حرام(۲)
حکمتِ طبعیہ کا جو حصہ فلاسفہ کے طریقے پر ہو اس کا پڑھنا حرام ہے۔

اسی میں ہے:
أمّا الاشتغال بالفلسفۃ والمنطق فقد أفتی بتحریمہ ابن الصلاح وشنع علی المشتغل بھما وأطال في ذلک ویجب علی الإمام إخراج أھلھما من مدارس الإسلام وسجنھم وکفّ شرّھم قال: وإن زعم أنّہ غیر معتقد لعقائدھم فإنّ حالہ یکذبہ(۳)
ابن صلاح نے فلسفے اور منطق کی حرمت کا فتویٰ دیا اور انھیں پڑھنے والے پر سخت طعن و تشنیع کی اور اس بارے میں طویل گفتگو کی بادشاہِ اسلام پر واجب ہے کہ ایسے لوگوں کو اسلامی مدارس سے نکال کر قید کردے اور ان کے شر کے دروازے کو بند کردے اگرچہ ان کا خیال یہ ہو کہ ہم فلاسفہ کے عقائد کے قائل نہیں؛ کیونکہ ان کی حالت خود انھیں جھٹلا رہی ہے۔
(1)..... ''الأشباہ والنظائر''، الفنّ الثالث، فائدۃ في أقسام العلوم، وحکم کلّ قسم، ص۳۲۸، ملخّصاً۔

(2)..... ''الفتاوی الحدیثیۃ''، مطلب: ھل یجوز علم التنجیم، ص۶۸، ملتقطاً۔

(3) ..... ''الفتاوی الفقہیۃ''۔
Flag Counter