Brailvi Books

والدین، زوجین اور اساتذہ کے حقوق
102 - 119
 (دیلمی از علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ) اور اس بارے میں بے شمار حدیثیں وارد ہیں۔
    نوزدہم:
وہ شخص جس کے نزدیک بناوٹی باتوں والا فلسفہ سیکھنا اور کافروں کی بیہودگی کے باقیما ندہ حصے کو بھیک مانگ کر جمع کرنا بہت بڑا کام ہے اور فخر وناز کا باعث ہے جس کی بنا پر اپنے آپ کو اس سید فقیہ سے امامت کے زیادہ لائق سمجھتا ہے حالانکہ فلسفیوں کے یہ علوم یعنی طبیعیات اور الٰہیات جو بدترین گمراہیوں سے پُر ہیں حتی کہ ان میں کفر وشرک اورضرورتِ دین کے انکار کے ڈھیرلگے ہوئے ہیں اور بہت سی باتیں ''قرآن مجید'' اور انبیاء و مرسلین کے ارشادات کے مخالف ہیں جیسا کہ ہم نے بعض باتوں کی تفصیل اپنے رسالے
''مقامع الحدید علی خدّ المنطق الجدید''
(جدید منطق کے منہ پر لوہے کے گرز) میں کی ہے ہم نے اس میں اس زمانے کے فلسفے کے دعویداروں پر قیامت قائم کردی ہے ان علوم کا (بغیر تردید کے) پڑھنا قطعاً حرام ہے۔
في ''الدرّ المختار'': اعلم أنّ تعلّم العلم یکون فرض عین (إلی أن قال:) وحراماً وھو علم الفلسفۃ والشعبذۃ والتنجیم والرمل وعلوم الطبائعیین والسحر(۱)
''در مختار'' میں ہے: بیشک علم کا پڑھنا فرض عین ہے، (یہاں تک کہ انھوں نے فرمایا:) اور کبھی علم کا پڑھنا حرام ہوتا ہے جیسے کہ علمِ فلسفہ، شعبدہ، نجوم، رمل، حکمتِ طبعیہ اور جادو۔

علامہ زین بن نجیم مصری رحمہ اللہ تعالیٰ ''اشباہ والنظائر'' میں فرماتے ہیں:
العلم قد یکون حراماً وھو علم
علم کا پڑھنا کبھی حرام ہوتا ہے جیسے کہ
(1)..... ''الدرّ المختار'' معہ ''ردّ المحتار''، المقدّمۃ، ج۱، ص۱۲۵۔ ۱۳۴، ملتقطاً۔
Flag Counter