یہ شخص چاہتا ہے کہ اپنے علم کو دنیا حاصل کرنے کا ذریعہ بنائے۔
نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی حدیث شریف میں ہے:
((من أکل بالعلم طمس اللہ وجھہ وردّہ علی عقبیہ وکانت النار أولٰی بہ))(۲)
جو شخص علم کو دنیا کمانے کا ذریعہ بناتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو بگاڑ دے گا اور اسے اسکی ایڑیوں پر واپس لوٹا دے گا۔
اور دوزخ کی آگ اس کے زیادہ لائق ہے۔
(شیرازی نے ''القاب'' میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی) دوسری حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:
((من ازداد علماً ولم یزدد في الدنیا زھداً لم یزدد من اللہ إلاّ بعداً))(۳)
جس شخص نے علم زیادہ حاصل کیا لیکن دُنیاسے بے رغبتی زیادہ نہ ہوئی اسے اللہ تعالیٰ سے دُوری کے سوا کچھ نہ ملا۔
(1)..... پ۲۸، الطلاق: ۱۔
(2)..... ''کنز العمال''، کتاب العلم، قسم الأقوال، الحدیث: ۲۹۰۳۰، ج۰ا، ص۸۵۔
(3)..... ''فردوس الأخبار''، حرف المیم، الحدیث: ۶۲۹۸، ج۲، ص۳۰۳۔