نے وہاں کافی عرصے تک عبادت کی۔
پھر اس شخص کا جب انتقال ہواتو اس کے ساتھيوں کو نہر نے آواز دی کہ ''اے عبادت گزارو اور زاہدو!اسے ميرے پانی سے غسل دے کر نہر کے کنارے دفن کر دو، تاکہ قيامت کے دن ميرے قريب سے اٹھے۔ '' انہوں ے ايسا ہی کيا اور کہنے لگے کہ آج کی رات ہم اس قبر کے پاس گزاريں گے اور جب صبح ہو گی تو چلے جائيں گے۔ چنانچہ يہ لوگ رات بھر اس قبر پر روتے رہے ۔جب صبح ہوئی تو ان پر اونگھ طاری ہو گئی ۔ جب انہيں ہوش آيا تو اللہ عزوجل نے اس کی قبر کے قریب بارہ ''سرو''کے پودے اگا دئيے تھے اور يہ پہلی مرتبہ تھی کہ زمين پر ''سرو''کا درخت لگا ۔يہ لوگ يہ ديکھ کر کہنے لگے کہ اللہ عزوجل نے اس جگہ ''سرو''کے پودے صرف اس ليے اگائے ہيں کہ اللہ عزوجل نے ہماری عبادت کو پسند کيا ہے ۔پھر يہ لوگ اسی قبر کے پاس اللہ عزوجل کی عبادت ميں مصروف ہو گئے اور جب ان ميں سے کوئی مر جاتا يہ اسے اس شخص کے پہلو ميں دفن کر ديتے حتی کہ ان سب کا انتقال ہو گيا ۔(کتاب التوابين ، تو بۃ صاحب فا حشۃ ،ص ۹۰)