| توبہ کی روایات وحِکایات |
اور کہنے لگا:''تم اس گھر کی وجہ سے ميری خوشی ديکھ رہے ہو ،میں سوچ رہا ہوں کہ ميں اپنے ہر بيٹے کے ليے ايک ايسا ہی گھر بناؤں ،تم لوگ کچھ دن ميرے پاس قيام کرو تاکہ ميں تم سے گفت وشنيد کروں اور اپنے مقصد کے ليے مشورے کر سکوں ۔''تو يہ لوگ کچھ دن اس کے پاس رہے، کھيل کود کرتے اور کچھ مشورے ہوتے کہ بیٹوں کے ليے کس طرح بنايا جائے اور اس کا کيا ارادہ ہے ۔''ايک رات انہوں نے گھر کے کونے سے کسی کی آواز سنی ،وہ کہہ رہا تھا ۔
ياا یھا البانی والناسی ميتہ لا تاملن فان الموت مکتوب
اے عمارت بنانے والے اور اپنی موت کو بھولنے والے اميد نہ کر بے شک موت لکھی ہوئی ہے۔
علی الخلائق ان سروا وان فرحوا فالموت حتف لذی الامال منصوب
مخلوق پر اگر وہ خوش ہوں اور فرحت ميں ہوں، بس موت اميد والوں کو کاٹنے کھڑی ہے ۔
لاتبنين ديارا لست تسکنھا وراجع النسک کيما یغفر الحوب
ايسے گھر مت بنا جس ميں تجھے رہنا نہيں اور درویشی کی طرف لوٹ جا تاکہ معاف کيا جائے۔
يہ آواز سن کر وہ اور اس کے ساتھ والے بہت زيادہ خوفزدہ ہو گئے اور جو کچھ سنا