Brailvi Books

توبہ کی روایات وحِکایات
97 - 124
ہوا اور صحرا کی طرف چل پڑا ۔وہ کہہ رہا تھا :''اے ميرے خدا! کيا تيری رحمت ختم ہو گئی يا تجھے ميری نافرمانی نے نقصان ديا 'يا تيری معافی کے خزانے ختم ہو گئے ؟کونسا گناہ تيری قديم صفات عفوو کرم سے بڑا ہے ؟جب تو اپنے بندوں پر رحمت بند کر دے گا تو وہ کس سے اميد رکھيں گے ؟اگر تو نے انہيں رد کر دياتو وہ کس کے پاس جائيں گے ؟اگر تيری رحمت ختم ہو گئی اور مجھے عذاب دينا لازم ہو گيا تو پھر اپنے تمام بندوں کا عذاب مجھ پر کر دے ،ميں اپنی جان ان کے بدلے ميں پیش کرتا ہوں ۔''

    اللہ عزوجل  نے فرمايا :''اے موسی  عليه السلام!اس کی طرف جاؤاور کہو کہ اگر تيرے گناہ زمين بھر کے برابر ہوں ،تب بھی تجھے بخش دوں گا کہ تو نے ميرے کمال قدرت اورکمال عفو و رحمت کو جان ليا ۔''
 (مکاشفۃ القلوب ، الباب السابع عشر فی بیان الامانۃ والتو بۃ ، ص ۶۳۔ ۶۴)
 (34 ) ایک نافرمان شخص کی توبہ
    حضرت ربيعہ بن عثمان علیہ الرحمۃ سے مروی ہے کہ ايک شخص اللہ عزوجل  کی بہت نافرمانی کرتا تھا پھر اللہ عزوجل  نے اسے بھلائی اور توبہ کی توفیق دی ۔اس نے اپنی بيوی کو کہا کہ ميں اللہ عزوجل  سے شفاعت کرنے والے کو تلاش کرتا ہوں ۔يہ کہہ کر وہ صحرا ميں نکل گيا اور وہاں جا کر آہ وزاری شروع کردی :''اے آسمان ميری شفاعت کر دے ،اے پہاڑو ميری شفاعت کر دو،اے زمين ميری شفاعت کر دے ،اے فرشتو!ميری سفارش کر دو ۔'' حتی کہ يہ تھک گيا اور بے ہوش ہو کر زمين پر گر گيا ۔ اللہ عزوجل  نے اس کے پاس ايک فرشتہ بھیجا اور اس نے اسے اٹھا ليا اور اس کے سر پر ہاتھ پھيرا اور کہا کہ خوشخبری ہو:''اللہ عزوجل نے تيری توبہ قبول فرما لی ہے۔''تو اس شخص نے کہا :''اللہ عزوجل  تجھ پر رحم کرے اللہ عزوجل سے
Flag Counter