Brailvi Books

توبہ کی روایات وحِکایات
96 - 124
گمان بھی نہ ہو ۔

    اللہ تعالی نے ان کی تمام دعائيں قبول فرمائيں ۔ان کا فہم تيز ہو گيا ،جب وہ قرآن مجيد کی تلاوت کرتے،تو ہر سننے والا تائب ہوجاتا، ان کے گھر ميں روزانہ سالن کا ايک پيالہ اور دو روٹياں رکھی ہوتيں اور پتا نہیں چلتا تھاکہ کون رکھ جاتا ہے ۔اسی حالت ميں آپ کا انتقال ہوگیا۔
 (مکاشفۃ القلوب،الباب الثامن فی التو بۃ ، ص ۲۸ ۔ ۲۹)
 (32 ) بنی اسرائیل کے نوجوان کی توبہ
    بنی اسرائيل ميں ايک جوان تھا جس نے بيس سال تک اللہ عزوجل کی عبادت کی ، پھر بيس سال تک نافرمانی کی ۔پھر آئينہ ديکھاتو داڑھی ميں بال سفيد تھے ۔وہ غم زدہ ہوگیا اورکہنے لگا:''اے ميرے خدا!ميں نے بيس سال تک تيری عبادت کی اور بيس سال تک تيری نافرمانی کی اگر ميں تيری طرف آؤں تو کيا ميری توبہ قبول ہو گی ؟''اس نے کسی کہنے والے کی آواز سنی :''تم نے ہم سے محبت کی ہم نے تم سے محبت کی ،پھر تو نے ہميں چھوڑ ديا اور ہم نے بھی تجھے چھوڑ ديا تو نے ہماری نافرمانی کی اور ہم نے تجھے مہلت دی اور اگر تُو توبہ کر کے ہماری طرف آئے گا تو ہم تيری توبہ قبول کريں گے۔''
 (مکاشفۃ القلوب ، الباب السابع عشر فی بیان الامانۃ والتو بۃ ، ص ۶۲)
 (33 ) توبہ پر قائم نہ رہنے والے کی توبہ
     حضرت سيدنا موسی کليم اللہ ں کے زمانہ ميں ايک آدمی توبہ پر پختہ نہيں رہتا تھا ،جب بھی توبہ کرتا توڑ ڈالتا ۔بيس سال تک اس کی يہی حالت رہی ۔اللہ تعالی نے حضرت موسی عليه السلام کی طرف وحی کی کہ ميرے بندے سے کہو کہ ميں اس پر غضبناک ہوں ۔حضرتِسیدنا موسی کليم اللہ عليه السلام نے اس آدمی تک يہ پيغام پہنچا ديا ۔وہ بڑا غمگين
Flag Counter