کرتے ہوں گے ۔وہاں دو نہریں ساتھ ساتھ بہتی ہیں ،وہاں ہر پھل کی دو قسمیں ہیں ۔ وہاں کے میوے کبھی ختم نہ ہوں گے اور نہ ان سے جنتیوں کو کوئی روکنے والا ہو گا۔اہلِ جنت ،جنت کے پسندیدہ عیش میں ہمیشہ رہیں گے ،وہاں انھیں کوئی ناگوار بات سنائی نہ دے گی ۔وہاں اونچے اونچے تختوں کے ارد گرد چمک دار آب خورے قطار سے رکھے ہوں گے ۔یہ تمام نعمتیں اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار بندوں کے لئے ہوں گی ۔ اور کافروں کے لئے کیا ہو گا ؟ان کے لئے آگ ہی آگ ہو گی ،آگ بھی ایسی کہ کبھی سرد نہ ہونے والی ،کافر اس میں ہمیشہ رہیں گے ان کا عذاب کبھی موقوف نہ ہو گا ،وہ اس میں اوندھے منہ پڑے ہوں گے اور جب انھیں سر کے بل گھسیٹا جائے گا تو کہا جائے گا ''لو یہ عذاب چکھو۔''
ان پُر اثر کلمات کے باعث موسیٰ کے دل کی دنیا میں انقلاب برپا ہو گیا،بے اختیاری میں تخت سے اترا اور اس نوجوان سے لپٹ کر رو پڑا،پھر تمام خدام و غلام وکنیزوں کو رخصت کر کے نوجوان کو ساتھ لئے گھر کے اندرونی حصے میں چلا گیا اور ایک بورئيے پر بیٹھ کر اپنی جوانی کے ضائع ہونے پر خود کو ملامت کرنے لگا ۔نوجوان اسے دلاسا دیتا اور اللہ تعالیٰ کی ستاری و غفاری یاد دلاتا رہا۔اسی عالم میں پوری رات گزر گئی۔جب صبح ہوئی تو موسیٰ نے سچی توبہ کی ،تازہ غسل کیا اور نوجوان کے ساتھ مسجد میں داخل ہوا ،عبادتِ الٰہیہ کو اپنا مقصد بنا لیا۔(روض الریاحین ،ص۱۲۲)