Brailvi Books

توبہ کی روایات وحِکایات
88 - 124
کہ محفل پر سناٹا چھا گیا ۔موسیٰ نے قبے سے سر نکالا اور آواز کا تعاقب کرنے لگا۔شراب و شباب کا یہ رسیا ،اس کرب ناک آواز کی تلخی کو برداشت نہ کر سکا ۔غلاموں کو حکم دیا کہ اس شخص کو تلاش کرو اور میرے پاس لاؤ۔غلام و خدام محل سے باہر نکلے ،انھیں قریبی مسجد میں ایک کمزور،لاغراورنحیف و نازار نوجوان ملا،جس کا بدن ہڈیوں کا پنجر بن چکا تھا،رنگ زرد،لب خشک ،بال پریشاں،دو پھٹی چادروں میں لپٹا ربِ کائنات کے حضور مناجات کر رہا تھا۔خادموں نے اسے ہاتھ پاؤں سے پکڑا اور موسیٰ کے سامنے حاضر کر دیا ۔موسیٰ نے اس سے تکلیف کا سبب پوچھا۔نوجوان نے کہا دراصل میں قرآنِ پاک کی تلاوت کر رہا تھا،دورانِ تلاوت ایک مقام ایسا آیا کہ اس نے مجھے بے حال کر دیا۔موسیٰ نے کہا ''وہ کون سی آیات تھیں میں بھی تو سنوں ۔''نوجوان نے تعوذ و تسمیہ کے بعد یہ آیات تلاوت کیں ،
اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیۡ نَعِیۡمٍ ﴿ۙ۲۲﴾عَلَی الْاَرَآئِکِ یَنۡظُرُوۡنَ ﴿ۙ۲۳﴾تَعْرِفُ فِیۡ وُجُوۡہِہِمْ نَضْرَۃَ النَّعِیۡمِ ﴿ۚ۲۴﴾یُسْقَوْنَ مِنۡ رَّحِیۡقٍ مَّخْتُوۡمٍ ﴿ۙ۲۵﴾خِتٰمُہٗ مِسْکٌ ؕ وَ فِیۡ ذٰلِکَ فَلْیَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوۡنَ ﴿ؕ۲۶﴾وَ مِزَاجُہٗ مِنۡ تَسْنِیۡمٍ ﴿ۙ۲۷﴾عَیۡنًا یَّشْرَبُ بِہَا الْمُقَرَّبُوۡنَ ﴿ؕ۲۸﴾
ترجمہ:بے شک نکو کار ضرور چین میں ہیں تختوں پر دیکھتے ہیں تو ان کے چہروں میں چین کی تازگی پہچانے ، نتھری شراب پلائے جائیں گے جو ُمہر کی ہوئی رکھی ہے اس کی مہر مشک پر ہے اور اسی پر چاہے کہ للچائیں للچانے والے اور اس کی ملونی تسنیم سے ہے وہ چشمہ جس سے مقربانِ بارگاہ پیتے ہیں۔(پ ۳۰ ، المطففین : ۲۲۔۲۸)

    تلاوت کرنے کے بعد نوجوان نے کہا ''اے فریب خوردہ!بھلا وہ نعمتیں کہاں اور تیری یہ مجلس کہاں ؟جنتی تخت کچھ اور ہی ہو گا ،اس پر نرم و نازک بستر ہوں گے ، جن کے استر استبرق کے ہوں گے ۔سبز قالینوں اور بستروں پر ٹیک لگائے لوگ آرام
Flag Counter