بنو امیہ کا حسین وجمیل نوجوان موسیٰ بن محمد بن سلیمان ہاشمی اپنے عیش و عشرت،خوش لباسی اور خوبصورت کنیزوں اور غلاموں کے جھرمٹ میں زندگی بسر کرنے کا عادی تھا ۔انواع و اقسام کے کھانوں سے اس کا دستر خوان ہمہ وقت لبریز رہتا۔زرق برق ملبوسات میں لپٹا،مجلسِ طرب سجائے،ساری ساری رات غم وآلامِ دنیا سے بے خبر پڑا رہتا۔ایک سال میں تین لاکھ تین ہزار دینار کی آمدنی تھی ،جسے مکمل طور پر اپنی عیاشیوں میں خرچ کر دیتا۔اس نے شارع عام پر نہایت بلند و بالاخوبصورت محل بنوا رکھا تھا ۔اپنے محل میں بیٹھا کبھی تو وسیع گزر گاہوں کی رونقوں سے محظوظ ہوتااور کبھی پچھلی جانب واقع شاندار باغ میں مجلسِ طرب سجاتا۔محل میں ہاتھی دانت کا بنا ہوا ایک قبہ تھا ، جس میں چاندی کی کیلیں تھیں ۔اس کے بیچ میں ایک قیمتی تخت خاص شہزادے کے بیٹھنے کے لئے بنایا گیا تھا ۔موسی اس پر شان و شوکت کے ساتھ بیٹھتا ،ارد گرد دوست احباب کی نشستیں ہوتیں ۔پشت پر خدام و غلام با ادب کھڑے ہوتے ۔ قبے کے باہر گانے والوں کے بیٹھنے کی جگہ تھی ،جہاں سے وہ نغمہ و سرور کے ذریعے اس کا اور اس کے دوستوں کا دل بہلاتے۔کبھی خوبصورت گانے والیاں بھی رونقِ مجلس بڑھاتیں ۔رات ڈھلے عیش و عشرت سے تھک کر کنیزوں میں سے جس کے ہمراہ چاہتا شب باشی کرتا ۔ دن کو شطرنج کی بساطیں جمتیں ۔کبھی بھولے سے بھی اس کی مجلس میں موت یا غم و آلام کا تذکرہ نہ چھڑتا۔اسی عالمِ سر مستی و شباب میں ستائیس سال گزر گئے۔
ایک رات وہ اسی طرح عیش و عشرت میں محو تھا کہ یکایک ایک درد ناک چیخ کی آواز ابھری ،جو گانے والوں کی آواز کے مشابہ تھی ۔اس آواز کا کانوں سے ٹکرانا تھا