Brailvi Books

توبہ کی روایات وحِکایات
84 - 124
الرحمۃنے نماز فجر ادا کی اور اپنی سواری پر سوار ہوکر خليفہ کے پاس پہنچے اور اپنے آنے کی خليفہ کو اطلاع بھجوائی ۔خليفہ نے حکم ديا ،آپ علیہ الرحمۃکی سواری کی لگام تھام کر نہايت ہی احترام کے ساتھ فرش شاہی تک لے آؤ اور آپ علیہ الرحمۃکو سواری سے نہ اترنے ديا جائے ۔سپاہيوں نے ايسا ہی کيا ۔خليفہ نے دريافت کيا:'' کيا حکم ہے ؟'' آپ علیہ الرحمۃنے فرمايا:''میرا ایک ہمسایہ موچی تھا جسے کل رات سپاہیوں نے پکڑ لیا ہے اُ س کی آزادی کا حُکم فرمائیے۔''خلیفہ نے فرمان جاری کر دیا کہ اُس موچی کو فوراً رِہا کر دو اور ہراُس قَیدی کو بھی رِہا کردو جو آج کے دن پکڑاگیا ہے ۔ چنانچہ سب کو آزاد کردیا گیا ۔

    پھر امام اعظم علیہ الرحمۃ سواری پر سوار ہو کر چل دئيے ۔وہ ہمسایہ ان کے پیچھے پیچھے چلنے لگا تو امام اعظم علیہ الرحمۃ نے پوچھا :''اے نوجوان ! کیا ہم نے تمہیں کوئی تکلیف دی ؟'' اس نے عرض کی :'' نہیں بلکہ آپ نے تو میری مدد فرمائی اور میری سفارش فرمائی ، اللہ تعالیٰ آپ کو اس کی بہتر جزاء عطافرمائے کہ آپ نے ہمسائے کی حرمت اور حق کی رعایت فرمائی۔''اس کے بعد اس شخص نے توبہ کر لی اور گناہوں سے باز آگیا ۔(فیضان سنت ص۳۶۰بحوالہ مناقب سیدنا امام اعظم رضی اللہ عنہ )
 (23 ) اپنی جان پر ظلم کرنے والے نوجوان کی توبہ
    حضرت سیدنا ابراہیم بن ادھم علیہ الرحمۃ کی خدمت میں ایک نوجوان حاضر ہوا اور کہنے لگا ،''میں نے اپنی جان پر بہت ظلم کیا ہے ، مجھے کچھ نصیحت ارشادفرمائیں جو مجھے گناہوں کو چھوڑنے میں معاون ہو۔''آپ نے ارشاد فرمایا کہ،''اگر تم پانچ خصلتوں کو اپنا لو تو گناہ تمہیں کوئی نقصان نہ دیں گے اور ان کی لذت ختم ہوجائے گی ۔'' اس نے آمادگی کا اظہار کیا تو آپ علیہ الرحمۃنے فرمایا،
Flag Counter