Brailvi Books

توبہ کی روایات وحِکایات
83 - 124
(21 ) ایک رئیس کی توبہ
     ایک رئیس ، حضرت سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے قلبی عناد رکھتا تھا اور (معاذ اللہ عزوجل ) آپ کو یہودی تک کہہ جایا کرتا تھا ۔ امام اعظم ابوحنیفہ علیہ الرحمۃنے ایک مرتبہ اس سے فرمایا ،''میں تیری بیٹی کی شادی ایک یہودی کے ساتھ کرنا چاہتا ہوں ۔'' یہ سن کر اس نے غصے سے کہا ،''آپ مسلمانوں کے امام ہو کر ایسی بات کرتے ہیں ؟ میں تو ایسی شادی کو قطعاً حرام تصور کرتا ہوں ۔'' آپ نے فرمایا،'' تیرے حرام جاننے سے کیا فرق پڑتا ہے جبکہ حضور اکرم ا نے اپنی دو صاحبزادیاں (معاذ اللہ عزوجل )ایک ''یہودی'' کے نکاح میں دے دیں ؟'' وہ رئیس آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اشارہ سمجھ گیا اور توبہ کر کے اپنے برے خیالات سے باز آگیا ۔
 (تذکرۃ الاولیاء،باب ھیجد ہم ،ذکر ابو حنیفہ،ص،۱۸۹)
 (22 ) ایک پڑوسی کی توبہ
    حضرت سيدنا عبد اللہ بن رجاعہ علیہ الرحمۃبيان کرتے ہيں کہ کوفہ ميں امام اعظم ابو حنيفہ علیہ الرحمۃکے پڑوس ميں ايک موچی رہتا تھا جو تمام دن تو محنت مزدوری کرتا اور رات گئے گھر ميں مچھلی يا گوشت لے کر آتا پھر اسے بھون کر کھاتا ۔اس کے بعد شراب پيتا جب شراب کے نشے ميں دھت ہو جاتا تو خوب اودھم مچاتا اور شور کرتا ۔اس طرح رات گئے تک سلسلہ رہتا يہاں تک کہ اسے نيند گھير ليتی ۔

    کروڑوں حنفيوں کے عظيم پیشوا حضرت سيدنا امام اعظم ابو حنيفہ علیہ الرحمۃکو اس شوروغل سے بے حد تکليف ہوتی ليکن آپ تمام رات نماز ميں مشغول رہتے ۔ايک رات اس ہمسايہ موچی کی آواز نہ سنی ۔صبح کو اس کے بارے ميں استفسار فرمايا توآپ کو بتايا گيا کہ کل رات اس کو سپاہيوں نے پکڑ ليا ہے اور وہ قيد ميں ہے ۔امام اعظم علیہ
Flag Counter