''پہلی بات یہ ہے کہ جب تم گناہ کا ارادہ کرو تو اللہ تعالیٰ کا رزق مت کھاؤ۔'' وہ نوجوان بولا،''پھر میں کھاؤں گا کہاں سے ؟ کیونکہ دنیا میں تو ہر شے اللہ عزوجل کی عطا کردہ ہے ۔'' آپ نے فرمایا،''کیا یہ اچھا لگے گا کہ تم رب تعالیٰ کا رزق بھی کھاؤ اور اس کی نافرمانی بھی کرو ؟'' اس نوجوان نے کہا ،''نہیں اور کیا ،دوسری بات بیان فرمائيے۔''
آپ نے فرمایا،''دوسری بات یہ ہے کہ جب تم کوئی گناہ کرنے لگو تو اللہ عزوجل کے ملک سے باہر نکل جاؤ۔'' وہ کہنے لگا ،''یہ تو پہلی بات سے بھی مشکل ہے کہ مشرق سے مغرب تک اللہ عزوجل ہی کی مملکت ہے ۔'' آپ نے ارشاد فرمایا،''تو کیا یہ مناسب ہے کہ جس کا رزق کھاؤ یا جس کے ملک میں رہو ، اس کی نافرمانی بھی کرو؟'' نوجوان نے نفی میں سر ہلایا اورکہا،''تیسری بات بیان فرمائیں۔''
آپ نے ارشاد فرمایا،''تیسری بات یہ ہے کہ جب تم کوئی گناہ کرو تو ایسی جگہ کرو جہاں تمہیں کوئی نہ دیکھ رہا ہو ۔'' اس نے کہا،''حضور! یہ کیسے ہوسکتا ہے اللہ تعالیٰ تو ہر بات کا جاننے والا ہے کوئی اس سے کیسے چھپ سکتا ہے ؟'' تو آپ نے فرمایا ،'' تو کیا یہ اچھا لگے گا کہ تم اس کا رزق بھی کھاؤ، اس کی مملکت میں بھی رہو اور پھر اسی کے سامنے اس کی نافرمانی بھی کرو ؟'' نوجوان نے کہا،'' نہیں، چوتھی بات بیان فرمائیں۔''
آپ نے فرمایا،''چوتھی بات یہ ہے کہ جب ملک الموت ں تمہاری روح قبض کرنے تشریف لائیں تو ان سے کہنا ،''کچھ دیر کے لئے ٹھہر جائیں تاکہ میں توبہ کر کے چند اچھے اعمال کرلوں ۔''اس نے کہا ،''یہ تو ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ اس مطالبے کو مان لیں ۔''تو آپ نے ارشاد فرمایا،''جب تم جانتے ہوکہ موت یقینی ہے اور اس سے بچنا ممکن نہیں تو چھٹکارے کی توقع کیسے کر سکتے ہو؟'' اس نے عرض کی ،''پانچویں بات ارشاد فرمائیں ۔''