تھوڑی دير بعد اس نے آنکھيں کھول ديں اور اپنے سامنے حضر ت ذوالنون مصری علیہ الرحمۃکو ديکھ کر شرمندہ ہو گيا اور خجالت سے پوچھنے لگا :''اے قبلہ عالم !آپ يہاں کيسے ؟'' آپ نے فرمايا :''اسے چھوڑو،اپنے بارے ميں بتاؤ،تم کون ہو ؟''اس نے کہا : ''آپ ديکھ ہی رہے ہيں ميں شرابی آدمی ہو ں۔ ''آپ نے فرمايا ـ:''ادھر ديکھو۔''جب اس نے مرے ہوئے اژدھے کو ديکھا تو اس کے بدن پر لرزہ طاری ہو گيا اور وہ خوف سے کانپنے لگا ۔آپ نے اسے ابتداء سے لے کر انتہا تک سارا واقعہ سنايا تو وہ رو پڑا اور اپنے منہ پر مٹی ملنے لگا اور کہنے لگا :''اگر وہ ذات اپنے گناہگاروں کے ساتھ ايسا سلوک کرتی ہے تو نيکو کاروں کو کتنا نوازتی ہو گی۔ ''
يہ کہہ کر جنگل کی طرف چلا گيا اور سخت مجاہدوں ميں مصروف ہو گيا ۔آخر کار ايک وقت ايساآيا کہ اس کا شمار اللہ عزوجل کے مقبول بندوں ميں ہونے لگا ۔اللہ عزوجل نے اس پر اتنا کرم فرماياکہ اگر وہ دور سے بھی کسی بيمار کو دم کر ديتا تو اللہ عزوجلاسے شفا عطا فرما ديتا ۔(حکايات الصالحين ص۷۲)