Brailvi Books

توبہ کی روایات وحِکایات
78 - 124
    ايک دن وہ اپنی رومی اور ترکی کنيزوں کے ساتھ کہيں جا رہی تھی ۔راستے ميں اس کا گزر حضرت صالح المری علیہ الرحمۃکے گھر کے قریب سے ہو ا۔آپ اللہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے برگزيدہ بندوں ميں سے تھے ۔آپ باعمل عالم دين اور عابد و زاہد تھے۔ آپ اپنے گھر ميں لوگوں کو وعظ ارشاد فرمايا کرتے تھے ۔آپ کے وعظ کی تاثير سے لوگوں پر رقت طاری ہو جاتی اوروہ بڑی زورزور سے آہ و بکاء شروع کر ديتے اور اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خوف سے ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑياں لگ جاتيں ۔جب شعوانہ نامی وہ عورت وہاں سے گزرنے لگی تو اس نے گھر سے آہ وفغاں کی آوازيں سنيں ۔ آوازيں سن کر اسے بہت غصہ آيا ۔وہ اپنی کنيزوں سے کہنے لگی :''تعجب کی بات ہے کہ يہاں نوحہ کیا جارہا ہے اور مجھے اس کی خبر تک نہيں دی گئی۔ ''پھر اس نے ايک خادمہ کو گھر کے حالات معلوم کرنے کے ليے اندر بھیج ديا ۔وہ لونڈی اندر گئی اور اندر کے حالات ديکھ کر اس پربھی خدا عزوجل کا خوف طاری ہو گيا اور وہ وہيں بيٹھ گئی ۔جب وہ واپس نہ آئی توشعوانہ نے کافی انتظار کے بعد دوسری اور پھر تيسری لونڈی کو اندر بھیجا مگر وہ بھی واپس نہ لوٹيں ۔پھر اس نے چوتھی خادمہ کو اندر بھیجا جو تھوڑی دير بعد واپس لوٹ آئی اور اس نے بتايا کہ گھر ميں کسی کے مرنے پر ماتم نہيں ہو رہا بلکہ اپنے گناہوں پر آہ وبکاء کی جارہی ہے ،لوگ اپنے گناہوں کی وجہ سے اللہ  عزوجل کے خوف سے رو رہے ہيں ۔''

    شعوانہ نے يہ سنا تو ہنس دی اور ان کا مذاق اڑانے کی نيت سے گھر کے اندر داخل ہو گئی ۔لیکن قدرت کو کچھ اورہی منظور تھا ۔ جونہی وہ اندر داخل ہوئی اللہ وزوجل نے اس کے دل کو پھیر ديا ۔ جب اس نے حضرت صالح المری علیہ الرحمۃکو ديکھا تو دل ميں