Brailvi Books

توبہ کی روایات وحِکایات
77 - 124
حاضر ہوں ، مجھے تیرے سوا کسی سے غرض نہیں ، مجھ میں جو برائیاں ہیں انہیں معاف فرما کر مجھے قبول کر لے، میرے گناہ معاف کردے ، مجھ سمیت تمام حاضرین پر اپنا کرم وفضل فرما اور ہمیں اپنی سخاوت سے مالا مال کردے ، یاارحم الراحمین ! میں نے گناہوں کی گٹھڑی تیرے سامنے رکھ دی ہے اور صدقِ دل سے تیرے سامنے حاضر ہوں ، اگر تو مجھے قبول نہیں کریگا تو میں ہلاک ہوجاؤں گا۔'' اتنا کہہ کر وہ نوجوان غش کھا کر گرا اور بے ہوش ہو گیا ۔ اور چند دن بسترِ علالت پر گزار کر انتقال کر گیا۔ 

     اس کے جنازے میں کثیر لوگ شامل ہوئے اور رو رو کر اس کے لئے دعائیں کی گئیں ۔ حضرت سَیِّدُنا صالح مری رضی اللہ تعالیٰ عنہ  اکثر اس کا ذکر اپنے وعظ میں کیا کرتے ۔ ایک دن کسی نے اس نوجوان کو خواب میں دیکھا تو پوچھا،'' تمہارے ساتھ کیا معاملہ ہوا؟''تو اس نے جواب دیا ، ''مجھے حضرت صالح مری رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی محفل سے برکتیں ملیں اور مجھے جنت میں داخل کر دیا گیا۔''(کتاب التوابین ،تو بۃ فتی من الازددان ، ص ۲۵۰ ۔ ۲۵۲ )
 (17 ) ایک گائیکہ کی توبہ
    بصرہ ميں ايک انتہائی حسين وجميل عورت رہا کرتی تھی ۔لوگ اسے شعوانہ کے نام سے جانتے تھے ۔ظاہری حسن وجمال کے ساتھ ساتھ اس کی آواز بھی بہت خوبصورت تھی ۔اپنی خوبصورت آواز کی وجہ سے وہ گائيکی اور نوحہ گری میں مشہور تھی ۔ بصرہ شہر ميں خوشی اور غمی کی کوئی مجلس اس کے بغير ادھوری تصور کی جاتی تھی ۔يہی وجہ تھی کہ اس کے پاس بہت سا مال و دولت جمع ہو گيا تھا ۔بصرہ شہر ميں فسق وفجور کے حوالے سے اس کی مثال دی جاتی تھی ۔اس کا رہن سہن اميرانہ تھا ،وہ بيش قيمت لباس زيب تن کرتی اور گراں بہا زيورات سے بنی سنوری رہتی تھی۔
Flag Counter