کہنے لگی : ''افسوس !ميری تو ساری عمر ضائع ہو گئی، ميں نے انمول زندگی گناہوں ميں اکارت کر دی،وہ ميرے گناہوں کوکیونکر معاف فرمائے گا؟ ''انہی خيالات سے پريشان ہوکر اس نے حضرت صالح المری علیہ الرحمۃسے پوچھا :''اے امام المسلمين!کيا اللہ عزوجل نافرمانوں اور سرکشوں کے گناہ بھی معاف فرما ديتا ہے ؟''آپ نے فرمايا :''ہاں !يہ وعظ ونصيحت اور وعدے وعيديں سب انہی کے ليے تو ہيں تاکہ وہ سيدھے راستے پر آ جائيں ۔''اس پر بھی اس کی تسلی نہ ہوئی تو وہ کہنے لگی:''ميرے گناہ تو آسمان کے ستاروں اور سمندر کی جھاگ سے بھی زيادہ ہيں۔''آپ نے فرمايا :''کوئی بات نہيں !اگر تيرے گناہ شعوانہ سے بھی زيادہ ہوں تو بھی اللہ عزوجل معاف فرمادے گا ۔''يہ سن کر وہ چيخ پڑی اور رونا شروع کر ديا اور اتنا روئی کہ اس پر بے ہوشی طاری ہو گئی ۔
تھوڑی دير بعد جب اسے ہوش آيا تو کہنے لگی:''حضرت !ميں ہی وہ شعوانہ ہوں جس کے گناہوں کی مثاليں دی جاتی ہيں ۔''پھر اس نے اپنا قيمتی لباس اور گراں قدر زيوراتار کر پرانا سا لباس پہن ليا اور گناہوں سے کمايا ہوا سارا مال غرباء میں تقسیم کر ديا اوراپنے تمام غلام اور خادمائيں بھی آزاد کر ديں ۔ پھر اپنے گھر ميں مقيد ہو کر بيٹھ گئی ۔ اس کے بعد وہ شب و روز اللہ عزوك؛ کی عبادت ميں مصروف رہتی اور اپنے گناہوں پر روتی رہتی اور ان کی معافی مانگتی رہتی ۔رو رو کر رب عزوجل کی بارگاہ ميں التجائيں کرتی :''اے توبہ کرنے والوں کو محبوب رکھنے والے اور گنہگاروں کو معاف فرمانے والے !مجھ پر رحم فرما،ميں کمزور ہوں تيرے عذاب کی سختيوں کو برداشت نہيں کر سکتی ،تو مجھے اپنے عذاب سے بچا لے اور مجھے اپنی زيارت سے مشرف فرما۔'' اس نے اسی حالت ميں چاليس سال زندگی بسر کی اورانتقال کر گئی ۔(حکايات الصالحين ص۷۴)