کیونکہ وہ تواللہ تعالیٰ کی گرفت میں ہوگا۔بے شک تم سرکشی کرنے والے گنہگاروں کو دیکھو گے کہ انہیں زنجیروں میں جکڑ کر جہنم کی طرف لے جایا جارہا ہوگا اور وہ برہنہ پاؤں ہوں گے ، ان کے جسم بوجھل ،چہرے سیاہ اورآنکھیں خوف سے نیلی ہوں گی ۔''وہ پکار کر کہیں گے،''ہم ہلاک ہو گئے ! ہم برباد ہوگئے! ہمیں کیوں جکڑا گیاہے،ہمیں کہاں لے جایا جارہا ہے اور ہمارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا؟''فرشتے انہیں آگ کے کوڑوں سے ہانکیں گے ، کبھی وہ منہ کے بل گریں گے اور کبھی انہیں گھسیٹ کر لے جایا جائے گا ۔ جب رو رو کر ان کے آنسو خشک ہوجائیں گے توخون کے آنسو رونا شروع کر دیں گے ، ان کے دل دہل جائیں گے اور حیران وپریشان ہوں گے ۔ اگر کوئی انہیں دیکھ لے تو ان پر نگاہ نہ جما سکے گا ، نہ دل کو سنبھال سکے گا اوریہ ہولناک منظر دیکھنے والے کے بدن پر لرزہ طاری ہوجائے گا ۔''
یہ کہنے کے بعد حضرت سَیِّدُنا صالح مری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت روئے اور آہ بھر کر کہنے لگے،''افسوس! کیسا خوفناک منظر ہوگا۔'' یہ کہہ کر پھر رونے لگے اور ان کو روتا دیکھ کر لوگ بھی رونے لگے ۔ اتنے میں ایک نوجوان کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا،''حضور!کیا یہ سارا منظر بروزِ قیامت ہوگا؟'' آپ نے جواب دیا ،''ہاں! اور یہ منظر زیادہ طویل نہیں ہوگا کیونکہ جب انہیں جہنم میں ڈال دیا جائے گا تو ان کی آوازیں آنا بند ہوجائیں گی ۔''یہ سن کر نوجوان نے ایک چیخ ماری اور کہا،'' افسوس ! میں نے اپنی زندگی غفلت میں گزار دی، افسوس! میں کوتاہیوں کا شکار رہا، افسوس ! میں اپنے پرورد گار عزوجل کی اطاعت میں سستی کرتا رہا، آہ! میں نے اپنی زندگی ضائع کر دی ۔'' اور رونے لگا ۔کچھ دیر بعد وہ کہنے لگا،''اے میرے رب عزوجل! میں اپنے گناہوں سے توبہ کرنے کے لئے تیری بارگاہ میں