Brailvi Books

توبہ کی روایات وحِکایات
75 - 124
اسے يوں مت گھسيٹو،اللہ  عزوجل نے اسے اپنے گناہوں پر شرمندگی (یعنی توبہ)کی وجہ سے معاف فرماديا ہے ۔'' جب ميں نے اس بوڑھی عورت کی يہ بات سنی تو ميں اس جنازے کے پاس گيا ،اس پر نماز جنازہ پڑھی پھر اسے قبر ميں دفن کر ديا ۔ميں نے اس کی بوڑھی ماں کے سر کا ايک سفيد بال بھی اس کے ساتھ قبر ميں رکھ ديا ۔اس کام سے فارغ ہو کر جب ہم اس کی قبر کو بند کرنے لگے تو اس کے جسم ميں حرکت پيدا ہوئی اور اس نے اپنا ہاتھ کفن سے باہر نکال کر بلند کيا اور آنکھيں کھول ديں ۔ميں يہ ديکھ کر گھبرا گيا ليکن اس نے ہميں مخاطب کر کے مسکراتے ہوئے کہا :''اے شيخ!ہمارا رب عزوجل بڑا غفور و رحيم ہے،وہ احسان کرنے والوں کو بھی بخش ديتا ہے اور گنہگاروں کو بھی معاف فرماديتا ہے ۔'' یہ کہہ کر اس نے ہميشہ کے ليے آنکھيں بند کر ليں ۔ہم سب نے مل کر اس کی قبر کو بند کر ديا اور اس پر مٹی درست کر کے واپس آ گئے ۔''(حکايات الصالحين ص۷۸)
 (16 ) ایک امیر نوجوان کی توبہ
    حضرت سَیِّدُنا صالح مری  ایک محفل میں وعظ فرما رہے تھے ۔ انہوں نے اپنے سامنے بیٹھنے والے ایک نوجوان کو کہا،''کوئی آیت پڑھو۔'' تو اس نے یہ آیت پڑھ دی،
وَ اَنۡذِرْہُمْ یَوْمَ الْاٰزِفَۃِ اِذِ الْقُلُوۡبُ لَدَی الْحَنَاجِرِ کَاظِمِیۡنَ ۬ؕ مَا لِلظّٰلِمِیۡنَ مِنْ حَمِیۡمٍ وَّ لَا شَفِیۡعٍ یُّطَاعُ ﴿ؕ۱۸﴾
ترجمہ کنزالایمان :اورانہیں ڈراؤ اس نزدیک آنے والی آفت کے دن سے جب دل گلوں کے پاس آجائیں گے غم میں بھرے ۔ اور ظالموں کا نہ کوئی دوست نہ کوئی سفارشی جس کا کہا مانا جائے ۔''( پ۲۴،المؤمن ۱۸)

    یہ آیت سن کر آپ نے فرمایا، ''کوئی کیسے ظالم کا دوست یا مدد گار ہوسکتا ہے؟
Flag Counter