Brailvi Books

توبہ کی روایات وحِکایات
73 - 124
پانی سے دھويا اور فرمايا :''اس بے خبر کو کيا خبر ؟کہ ناپاک منہ سے کس پاک ذات کا نام لے رہا ہے ۔''منہ دھو کر آپ چلے گئے ۔جب شرابی کو ہوش آيا تو لوگوں نے اسے بتايا کہ تمہاری بے ہوشی کے عالم ميں حضرت سری علیہ الرحمۃ يہاں آئے تھے اور تمہارا منہ دھوکر گئے ہيں ۔شرابی یہ سن کر بڑا پشيمان ونادم ہوااور رونے لگا اور نفس کو مخاطب کر کے بولا : ''بے شرم !اب تو سری علیہ الرحمۃبھی تجھے ا س حال ميں ديکھ گئے ہيں،خدا عزوجل  سے ڈر اور آئندہ کے ليے توبہ کر۔''

    رات کو حضرت سری علیہ الرحمۃنے خواب ميں کسی کہنے والے کو يہ کہتے سنا:''اے سری !تم نے شرابی کا ہماری خاطر منہ دھويا ،ہم نے تمہاری خاطر اس کا دل دھو ديا۔''حضرت سری علیہ الرحمۃتہجد کے وقت مسجد ميں گئے تو اسی شرابی کو تہجد پڑھتے ہو ئے پايا ۔آپ نے اس سے پوچھا:''تم ميں يہ انقلاب کيسے آگيا ؟۔''تو وہ بولا :''آپ مجھ سے کيوں پوچھتے ہيں جب کہ اللہ نے آپ کو بتا ديا ہے۔''

(فیضان سنت بحوالہ روض الفائق، ص ۳۱۷ )
 (15 ) گناہوں کی دلدل میں پھنسنے والے نوجوان کی توبہ
    ايک بزرگ علیہ الرحمۃفرماتے ہیں کہ ايک بار نصف رات گزر جانے کے بعد ميں جنگل کی طرف نکل کھڑا ہوا ۔راستے ميں ميں نے ديکھا کہ چار آدمی ايک جنازہ اٹھائے جا رہے ہيں ۔ميں سمجھا کہ شايد انہوں نے اسے قتل کيا ہے اور لاش ٹھکانے لگانے کے ليے کہيں لے جارہے ہيں ۔جب وہ ميرے نزديک آئے تو ميں نے ہمت کر کے ان سے پوچھا :''اللہ  عزوجل کاجو حق تم پر ہے اس کو سامنے رکھتے ہوئے ميرے سوال کا جواب دو ،کيا تم نے خود اسے قتل کيا ہے يا کسی اور نے اور اب تم اسے ٹھکانے لگانے کے
Flag Counter