Brailvi Books

توبہ کی روایات وحِکایات
72 - 124
ڈرتی ہوں۔''جب اس قصاب نے یہ سنا تو بولا،''جب تو اللہ تعالیٰ سے ڈرتی ہے تو کیا میں اس ذاتِ پاک سے نہ ڈروں ؟''یہ کہہ کر اس نے توبہ کر لی اور وہاں سے پلٹ پڑا۔راستے میں پیاس کے مارے دم لبوں پر آ گیا ۔اتفاقاً اس کی ملاقات ایک شخص سے ہو گئی جو کہ کسی نبی علیہ السلام کا قاصد تھا ۔اس مردِ قاصد نے پوچھا،اے جوان کیا حال ہے؟''قصاب نے جواب دیا،''پیاس سے نڈھال ہوں ۔''قاصد نے کہا کہ'' آؤ ہم دونوں مل کر خدا عزوجل سے دعا کریں تاکہ اللہ تعالیٰ ابر کے فرشتے کو بھیج دے اور وہ شہر پہنچنے تک ہم پر اپنا سایہ کئے رکھے ۔''نوجوان نے کہا کہ''میں نے تو خدا عزوجل کی کوئی قابلِ ذکر عبادت بھی نہیں کی ہے ،میں کس طرح دعا کروں؟تم دعا کرو میں آمین کہوں گا۔''اس شخص نے دعا کی ، بادل کا ایک ٹکڑا ان کے سروں پر سایہ فگن ہو گیا ۔

    جب یہ دونوں راستہ طے کرتے ہوئے ایک دوسرے سے جدا ہوئے تو وہ بادل قصاب کے سر پر آ گیا اور قاصد دھوپ میں ہو گیا ۔قاصد نے کہا،''اے جوان!تو نے تو کہا تھا کہ تو نے اللہ  عزوجل  کی کچھ بھی عبادت نہیں کی ،پھر یہ بادل تیرے سر پر کس طرح سایہ فگن ہو گیا؟تو مجھے اپنا حال سنا۔''نوجوان نے کہا ،''اور تو مجھے کچھ معلوم نہیں لیکن ایک کنیز سے خوفِ خدا عزوجل کی بات سن کر میں نے توبہ ضرور کی تھی ۔''قاصد بولا،''تو نے سچ کہا،اللہ تعالیٰ کے حضور میں جو مرتبہ و درجہ تائب(توبہ کرنے والے) کا ہے وہ کسی دوسرے کا نہیں ہے۔'' (کتاب التوابین ، تو بۃ القصاب والجاریۃ ، ص۷۵ )
 (14 ) بے ہوش ہونے والے شرابی کی توبہ
    حضرت سری سقطی علیہ الرحمۃنے ايک شرابی کو ديکھا جو مدہوش زمين پر گرا ہوا تھااور اپنے شراب آلودہ منہ سے ''اللہ اللہ ''کہہ رہاتھا ۔آپ نے وہيں بيٹھ کر اس کا منہ
Flag Counter