Brailvi Books

توبہ کی روایات وحِکایات
71 - 124
کپڑوں ميں سلے ہوئے ہيں ۔''راہزن نے کہا کہ'' صاحب زادے! مذاق نہ کرو سچ سچ بتاؤ؟''نوجوان نے بتايا ''ميرے پاس واقعی چاليس دينار ہيں يہ ديکھو ميری بغل کے نیچے ديناروں والی تھيلی کپڑوں ميں سلی ہوئی ہے''راہزن نے ديکھا تو حيران رہ گيا اور نوجوان کو اپنے سردار کے پاس لے گيا اور سار اواقعہ بيا ن کيا سردار نے کہا ''نوجوان !کيا بات ہے لوگ تو ڈاکوؤں سے اپنی دولت چھپاتے ہيں مگر تم نے سختی کيے بغير اپنی دولت ظاہر کر دی؟''نوجوان نے کہا ''ميری ماں نے گھر سے چلتے وقت مجھے نصيحت فرمائی تھی کہ'' بيٹا!ہر حال ميں سچ بولنا ۔''بس ميں اپنی والدہ کے ساتھ کيا ہو اوعدہ نبھا رہا ہوں۔''

    نوجوان کا يہ بيا ن تاثير کاتير بن کر ڈاکوؤں کے سردار کے دل ميں پيوست ہوگيا اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کا درياچھلکنے لگا ۔اس کاسويا ہوامقدر جاگ اٹھا ، وہ کہنے لگا''صاجزادے!تم کس قدر خوش نصيب ہو کہ دولت لٹنے کی پرواہ کيے بغير اپنی والدہ کے ساتھ کيے ہوئے وعدے کو نبھا رہے ہو اور ميں کس قدر ظالم ہوں کہ اپنے خالق ومالک کے ساتھ کيے ہوئے وعدے کو پامال کر رہا ہوں اور مخلوق خدا کا دل دکھا رہا ہوں۔ ''يہ کہنے کے بعدوہ ساتھيوں سميت سچے دل سے تائب ہو گيا اورلوٹا ہوا سارا مال واپس کر ديا۔ (تاریخ مشائخ قادریہ ، ص ۶۶)
 (13 ) ایک قصاب کی توبہ
    حضرتِسیدنا شیخ ابو بکر بن عبد اللہ حزنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کہتے ہیں کہ ایک قصاب اپنے پڑوسی کی لونڈی پر عاشق تھا ۔ایک دن وہ لونڈی کسی کام سے دوسرے گاؤں کو جا رہی تھی ، قصاب نے موقع غنیمت جان کر اس کا پیچھاکیا اور کچھ دور جا کر اسے پکڑ لیا ۔ تب کنیز نے کہا کہ''اے نوجوان!میرا دل بھی تیری طرف مائل ہے لیکن میں اپنے رب عزوجل سے
Flag Counter