Brailvi Books

توبہ کی روایات وحِکایات
70 - 124
نہ چھوا کسی آدمی اور نہ جن نے ،تو اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤگے،گویاوہ لعل اور یاقوت اور مونگاہیں۔(پ۲۷،الرحمن :۵۶۔۵۸)

لہذا! دانا وہی ہے جو جنت کی نعمتوں کی خواہش رکھے او عذاب جہنم سے بچنے کی کوشش کرے۔ ''

    ميری يہ باتيں سن کربادشاہ کے بيٹے نے ايک ٹھنڈی آہ بھری اورکہنے لگا : ''اے طبيب ! تو نے تو کسی اسلحے کے بغير ہی مجھے قتل کر ڈالا ہے ، مجھے بتاؤکيا ہمارا رب عزوجل اپنے نافرمان بھگوڑے بندوں کو قبول کر ليتا ہے کيا وہ مجھ جيسے گنہگار کی توبہ قبول فرمائے گا؟'' میں نے کہا :''کیوں نہیں ! وہ بڑا غفورو رحیم اور کریم ہے ۔'' میرایہ کہنا تھا کہ اس نے اپنی قیمتی عباء چاک کرڈالی اور محل کے دروازے سے باہر نکل گیا ۔ چند سالوں بعد جب میں حج کے لئے بیت اللہ شریف گیا تو دیکھا کہ وہاں ایک نوجوان طواف ِ کعبہ میں مصروف ہے ۔اس نے مجھے سلام کیا اور کہنے لگا:''آپ نے مجھے پہچانا نہیں ،میں وہی بادشاہ کا بیٹا ہوں جس نے آپ کی باتیں سن کر توبہ کی تھی ۔''(حکایات الصالحین ،ص۷۲)
 ( 12) ڈاکوؤں کے سردار کی توبہ
    ايک قافلہ گيلان سے بغداد کی طرف رواں دواں تھا۔جب يہ قافلہ ہمدان شہر سے روانہ ہوا تو جيسے ہی جنگل شروع ہوا ڈاکؤں کا ايک گروہ نمودار ہوا اور قافلے والوں سے مال واسباب لوٹنا شروع کر ديا ۔اس قافلے ميں ايک نوجوان بھی تھا جس کی عمر اٹھارہ (18)سال کے لگ بھگ تھی ۔ايک راہزن اس نوجوان کے پاس آيا اور کہنے لگا : ''صاحب زادے!تمہارے پاس بھی کچھ ہے ؟۔''نوجوان بولا :''ميرے پاس چاليس دينار ہيں جو
Flag Counter