نہ چھوا کسی آدمی اور نہ جن نے ،تو اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤگے،گویاوہ لعل اور یاقوت اور مونگاہیں۔(پ۲۷،الرحمن :۵۶۔۵۸)
لہذا! دانا وہی ہے جو جنت کی نعمتوں کی خواہش رکھے او عذاب جہنم سے بچنے کی کوشش کرے۔ ''
ميری يہ باتيں سن کربادشاہ کے بيٹے نے ايک ٹھنڈی آہ بھری اورکہنے لگا : ''اے طبيب ! تو نے تو کسی اسلحے کے بغير ہی مجھے قتل کر ڈالا ہے ، مجھے بتاؤکيا ہمارا رب عزوجل اپنے نافرمان بھگوڑے بندوں کو قبول کر ليتا ہے کيا وہ مجھ جيسے گنہگار کی توبہ قبول فرمائے گا؟'' میں نے کہا :''کیوں نہیں ! وہ بڑا غفورو رحیم اور کریم ہے ۔'' میرایہ کہنا تھا کہ اس نے اپنی قیمتی عباء چاک کرڈالی اور محل کے دروازے سے باہر نکل گیا ۔ چند سالوں بعد جب میں حج کے لئے بیت اللہ شریف گیا تو دیکھا کہ وہاں ایک نوجوان طواف ِ کعبہ میں مصروف ہے ۔اس نے مجھے سلام کیا اور کہنے لگا:''آپ نے مجھے پہچانا نہیں ،میں وہی بادشاہ کا بیٹا ہوں جس نے آپ کی باتیں سن کر توبہ کی تھی ۔''(حکایات الصالحین ،ص۷۲)