اس کا غصہ ٹھنڈا پڑ گيا اورکہنے لگا:'' ٹھيک ہے، ذرا ہميں بھی بتائيے کہ آپ کيسے طبيب ہيں؟'' ميں نے کہا : ''ميں گناہوں کے درد اور نافرمانيوں کے زخموں کا علاج کرتا ہوں۔'' اس نے کہا:'' اپنا علاج بيان کرو۔''ميں نے کہا :''اے شہزادے !تو اپنے گھر ميں آرام سے تخت پر تکيہ لگائے بيٹھا ہے اور لہو ولعب ميں مصروف جبکہ تيرے کارندے باہر لوگوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہے ہيں ،کيا تجھے اللہ سے خوف نہيں آتا اس کے دردناک عذاب کا تجھے کوئی ڈر نہيں ؟تجھے اس دن کا کوئی لحاظ نہيں جس دن تمام بادشاہوں اور حکمرانوں کوان کی بادشاہيوں اور حکمرانيوں سے معزول کر ديا جائے گااور تمام سرکش ظالموں کے ہاتھ باندھ دئيے جائيں گے، ياد کر اس اندھيری رات کو جو یومِ قيامت کے بعد آنے والی ہے اور جہنم کی وہ آگ جو غصے کی وجہ سے پھٹنے والی ہے اور غیظ وغضب سے چنگھاڑ رہی ہے ،سب لوگ اس کے خوف سے حواس باختہ ہو جاتے ہيں۔ عقل مند آدمی کو دنيا کی فانی نعمتوں،چھن جانے والی حکومتوں اور عورتوں کے ان خوبصورت بدنوں سے دھوکا نہيں کھانا چاہيے جو مرنے کے بعد صرف تين دن ميں خون پیپ اور بدبودار لوتھڑوں ميں تبديل ہو جاتے ہيں بلکہ عقل مند آدمی تو جنت کی ان عورتوں (یعنی حوروں) کا طالب ہوتا ہے جن کا خمير کستوری عنبر اور کافور سے اٹھايا گيا ہے ، جو اتنی حسين و جميل ہيں کہ آج تک کسی نے ان جيسی حسين و جميل عورت نہ ديکھی ہے اور نہ ہی سنی ہے۔ اللہ تعالی نے انہيں کے متعلق فرمايا ہے :