Brailvi Books

توبہ کی روایات وحِکایات
68 - 124
''اس وقت يہ نوجوان دنيا کا بادشاہ بنا بيٹھا ہے ليکن اسے بھی موت تو آنی ہے جب موت آئے گی تو اس کی بناوٹی بادشاہی کا خاتمہ ہو جائے گا جو کچھ اس کے پاس کل تک تھا وہ اگلے دن تک نہيں رہے گا لہذا مجھے ڈرنا نہيں چاہيے اور اسکے پاس جا کر حق بات کی نصیحت کرنی چاہيے شاید اللہ تعالی اس پراپنی رحمت کے دروازے کھول دے ۔ چنانچہ ميں موقع کی تلاش ميں رہا جونہی دربان ذرا مشغول ہوئے ميں آنکھ بچا کر اندر داخل ہوگياميں نے ديکھا کہ اس نوجوان نے کسی عورت کو پکارا ۔''اے نسواں! ''اس کے بلانے پر ايک کنيز حاضر ہو گئی ۔

    مجھے يوں لگا جيسے اچانک دن چڑھ آيا ہو ۔اس کے ساتھ اور بھی بہت سی کنيزيں تھیں جن کے ہاتھوں ميں خوشبودار مشروب سے بھرے ہوئے برتن تھے۔ اس مشروب کے ساتھ اس نوجوان کے دوستوں کی خدمت کی گئی ۔مشروب سے لطف اندوز ہونے کے بعد اس کے تمام احباب يکے بعد ديگرے اس کو سلام کر کے رخصت ہونے لگے۔ جب وہ دروازے تک پہنچے توانہوں نے مجھے ديکھ ليا اور مجھے ڈانٹنا شروع کر ديا۔ ميں نے ان سے خوف زدہ ہونے کے بجائے پوچھا کہ ''يہ نوجوان کون ہے ؟'' انہوں نے بتایا:'' یہ بادشاہ کا بیٹا ہے ۔''ميں يہ سن کر تیزی سے اس نوجوان کی طرف بڑھااور اس کے سامنے جا کر رک گيا ۔جب بادشاہ کے بيٹے نے مجھ جيسے فقير کو بالکل اپنے سامنے کھڑا پايا تو سخت غصے ميں آ گيا اور کہنے لگا :''ارے پاگل ! تو کون ہے؟ تجھے کس نے اندر داخل ہونے ديا ؟ اور تو ميری اجازت کے بغير يہاں کيسے آيا ؟''

    ميں نے کہا : ''اے شہزادے !ذراٹھہر جائيے اور ميری لاعلمی کو اپنے حلم اورميری خطا کو اپنے کرم سے درگزر کیجئے،ميں ايک طبيب ہوں۔ ميرے اتنا کہنے سے