| توبہ کی روایات وحِکایات |
اَلَمْ یَاۡنِ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡ تَخْشَعَ قُلُوۡبُہُمْ لِذِکْرِ اللہِ
ترجمہ کنزالایمان :کیا ایمان والوں کو ابھی وہ وقت نہ آیا کہ ان کے دل جھک جائیں اللہ کی یاد (کے لئے )۔(پ۲۷، الحدید:۱۶)
جب اس نے یہ آیت سنی تو اللہ تعالیٰ کے خوف سے تھر تھر کانپنے لگا اور اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی اور یہ پکار پکار کر کہنے لگا،''کیوں نہیں ؟ کیوں نہیں؟'' اور یہ کہتے ہوئے محل کے دروازے سے باہر نکل گیا ۔ اس دن سے ہمیں اس کے بارے میں کوئی خبر نہ ملی یہاں تک کہ آج تم نے اس کی وفات کی خبر دی ۔''
(حکایات الصالحین،ص ۶۷)(11 ) بادشاہ کے بیٹے کی توبہ
ايک روزحضرت سیدنا منصوربن عمار علیہ الرحمۃبصرہ کی گليوں ميں سے گزر رہے تھے۔آپ نے ايک جگہ ايک محل نما عمارت ديکھی جس کی ديواريں نقش و نگار سے مزين تھيں اور اس کے اندر خدام و حشم کا ايک ہجوم تھا جوادھر ادھر بھاگ دوڑکر مختلف کاموں کو سر انجام دينے ميں مصروف تھا ۔اس ميں بے شمار خيمے بھی لگے ہوئے تھے اور محل کے دروازے پردربان بالکل اسی طرح سے بيٹھے تھے جس طرح بادشاہ کے محل کے باہر بيٹھے ہوتے ہيں۔اس محل نما عمارت کے منقش ديوان خانے ميں سونے چاندی کا جڑا ہوا تخت رکھا ہوا تھا ۔آپ علیہ الرحمۃ نے ايک انتہائی خوبصورت نوجوان کو اس پر بيٹھے ہوئے ديکھا جس کے گرد نوکر اور خادم ہاتھ باندھے کسی اشارے کے منتظر تھے ۔
آپ فرماتے ہيں کہ ميں نے اس محل نما خوبصورت عمارت ميں داخل ہونا چاہاتو دربانوں نے مجھے ڈانٹ ديا اور اندر داخل ہونے سے منع کر ديا۔ ميں نے سوچا کہ