کافی دیر رونے کے بعد مجھ سے پوچھا ،''وہ گارا بنانے والا اب کہاں ہے ؟''میں نے جواب دیا ،''وہ مزدور فوت ہو چکا ہے ۔''یہ سن کر خلیفہ بے ہوش ہو کر گر گیا اور عصر تک بے ہوش رہا ۔ میں اس دوران حیران وپریشان وہیں موجود رہا ۔ پھر جب خلیفہ کوکچھ افاقہ ہوا تو مجھ سے دریافت کیا ، ''اس کی وفات کے وقت تم اس کے پاس تھے ؟'' میں نے اثبات میں سر ہلا دیا تو کہنے لگا،''اس نے تجھے کوئی وصیت بھی کی تھی ؟''میں نے اسے نوجوان کی وصیت بتائی اور وہ پیغام بھی دے دیا جو اس نوجوان نے خلیفہ کے لئے چھوڑا تھا ۔
جب خلیفہ نے یہ ساری باتیں سنیں تو مزید غمگین ہو گیا اور اپنے سر سے عمامہ اتار دیا ، اپنے کپڑے چاک کر ڈالے اور کہنے لگا ،''اے مجھے نصیحت کرنے والے ! اے میرے زاہد وپارسا! اے میرے شفیق !۔۔۔۔۔۔'' اس طرح کے بہت سے القابات خلیفہ نے اس مرنے والے نوجوان کو دئيے اور مسلسل آنسو بھی بہاتا رہا ۔ یہ سارا معاملہ دیکھ کر میری حیرانی اور پریشانی میں مزید اضافہ ہوگیا کہ خلیفہ ایک عام سے مزدور کے لئے اس قدر غم زدہ کیوں ہے ؟ جب رات ہوئی تو خلیفہ نے مجھ سے اس کی قبر پر لے جانے کی خواہش ظاہر کی تو میں اس کے ساتھ ہو لیا ۔ خلیفہ چادر میں منہ چھپائے میرے پیچھے پیچھے چلنے لگا۔ جب ہم قبرستان میں پہنچے تو میں نے ایک قبر کی طرف اشار ہ کر کے کہا ،''عالی جاہ! یہ اس نوجوان کی قبر ہے ۔''
خلیفہ اس کی قبر سے لپٹ کر رونے لگا ۔ پھر کچھ دیر رونے کے بعد اس کی قبر کے سرہانے کھڑا ہو گیا اورمجھ سے کہنے لگا ،''یہ نوجوان میرا بیٹا تھا ، میری آنکھوں کی ٹھنڈک اور میرے جگر کا ٹکڑا تھا ، ایک دن یہ رقص وسُرور کی محفل میں گم تھا کہ مکتب میں