Brailvi Books

توبہ کی روایات وحِکایات
65 - 124
سے کچھ حاصل نہ ہوگا ۔''

    وہ نوجوان مجھے یہ وصیت کرنے کے بعد انتقال کر گیا ۔ میں اس کی موت کے بعد کافی دیر تک آنسو بہاتا رہا اور غمزدہ رہا ۔ پھر (نہ چاہتے ہوئے بھی )میں نے اس کی وصیت پوری کرنے کے لئے ایک رسی لی اور اس کی گردن میں ڈالنے کا قصد کیا تو کمرے کے ایک کونے سے ندا آئی کہ ،''اس کے گلے میں رسی مت ڈالنا ، کیا اللہ  عزوجل  کے اولیاء سے ایسا سلوک کیا جاتا ہے ؟'' یہ آواز سن کر میرے بدن پر کپکپی طاری ہوگئی ۔ یہ سننے کے بعد میں نے اس کے پاؤں کو بوسہ دیا اور اس کے کفن ودفن کاانتظام کرنے چلاگیا ۔ 

    اس کی تدفین سے فارغ ہونے کے بعد میں اس کا قرآن پاک اور انگوٹھی لے کر خلیفہ کے محل کی جانب روانہ ہو گیا۔وہاں جا کر میں نے اس نوجوان کا واقعہ ایک کاغذ پر لکھا اور محل کے داروغہ سے اس سلسلے میں بات کرنا چاہی تو اس نے مجھے جھڑک دیا اور اندر جانے کی اجازت دینے کی بجائے اپنے پاس بٹھا لیا ۔ آخرِ کار !خلیفہ نے مجھے اپنے دربار میں طلب کیا اور کہنے لگا ، ''کیا میں اتنا ظالم ہوں کہ مجھ سے براہ راست بات کرنے کی بجائے رقعے کا سہارا لیا ؟'' میں نے عرض کی،''اللہ تعالیٰ آپ کا اقبال بلند کرے ، میں کسی ظلم کی فریاد لے کر نہیں آیا بلکہ ایک پیغام لے کر حاضر ہوا ہوں ۔'' خلیفہ نے اس پیغام کے بارے میں دریافت کیا تو میں نے وہ قرآن مجید اور انگوٹھی نکال کر اس کے سامنے رکھ دی ۔ خلیفہ نے ان چیزوں کو دیکھتے ہی کہا ،''یہ چیزیں تجھے کس نے دی ہیں ؟'' میں نے عرض کی ،''ایک گارا بنانے والے مزدور نے ۔۔۔۔۔۔۔'' خلیفہ نے ان الفاظ کو تین بار دہرایا،''گارا بنانے والا،گارا بنانے والا،گارا بنانے والا۔۔۔۔۔۔۔''اور رو پڑا ۔