Brailvi Books

توبہ کی روایات وحِکایات
61 - 124
چنانچہ آپ روتے ہوئے دیوار سے اتر پڑے اور رات کو ایک سنسان اور بے آباد کھنڈر نما مکان میں جاکر بیٹھ گئے ۔ تھوڑی دیر بعد وہاں ایک قافلہ پہنچا تو شرکائے قافلہ آپس میں کہنے لگے کہ،''رات کو سفر مت کرو ، یہاں رک جاؤ کہ فضیل بن عیاض ڈاکو اسی اطراف میں رہتا ہے ۔'' آپ نے قافلے والوں کی باتیں سنیں تو اور زیادہ رونے لگے کہ ،''افسوس ! میں کتنا گناہ گار ہوں کہ میرے خوف سے امتِ رسول اکے قافلے رات میں سفر نہیں کرتے اور گھروں میں عورتیں میرا نام لے کر بچوں کو ڈراتی ہیں ۔'' 

    آپ مسلسل روتے رہے یہاں تک کہ صبح ہوگئی اور آپ نے سچی توبہ کر کے یہ ارادہ کیا کہ اب ساری زندگی کعبۃ اللہ کی مجاوری اور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں گزاروں گا ۔ چنانچہ آپ نے پہلے علمِ حدیث پڑھنا شروع کیا اور تھوڑے ہی عرصے میں ایک صاحبِ فضیلت محدث ہوگئے اور حدیث کا درس دینا بھی شروع کر دیا ۔(اولیائے رجال الحدیث ص۲۰۶ )
 (8 ) تیس سال تک سچی توبہ کی دعا کرنے والا
    حضرتِ سیدنا ابو اسحاق علیہ الرحمۃ فرماتے ہيں کہ ''ميں نے تيس سال تک اللہ تعالی کی بارگاہ ميں دعا مانگی کہ اے اللہ رب العزت تو مجھے سچی اور خالص توبہ کی توفيق عطا فرما ۔''تيس برس گزر جانے کے بعد ميں اپنے دل ميں تعجب کرنے لگا اور بارگاہ ايزدی ميں عرض کيا:''اے اللہ تو پاک اور بے عيب ہے ميں نے تيس برس تک تيری بارگاہ ميں ايک حاجت کی التجا کی ليکن تو نے اب تک ميری وہ حاجت پوری نہيں کی ۔''

    جب ميں سو گيا تو خواب ميں ديکھا کہ ايک شخص مجھ سے کہہ رہا تھا :''تم اپنی تيس سالہ دعا پر تعجب اور حيرت کرتے ہوکيا تمہيں يہ نہيں معلوم کہ تم اللہ سے کتنی بڑی چيز مانگ رہے ہو ؟ تم اس بات کا سوال کر رہے ہو کہ اللہ تعالی تمہيں اپنا دوست اورمحبوب بنا
Flag Counter