Brailvi Books

توبہ کی روایات وحِکایات
62 - 124
لے کيا تم نے اللہ  عزوجل  کا يہ فرمان نہيں سنا :
 اِنَّ اللہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیۡنَ وَیُحِبُّ الْمُتَطَہِّرِیۡنَ ﴿۲۲۲﴾
ترجمہ کنزالایمان :بے شک اللہ پسند کرتاہے بہت تو بہ کرنے والوں کو اور پسند رکھتاہے ستھروں کو۔''(پ ۲، البقرہ :۲۲۲)

    تو کيا تم اس محبت کو معمولی سمجھتے ہو؟''
 (منہاج العابدین ،الی جنۃ رب العالمین العقبۃ الثانیۃ عقبۃ التو بۃ ، ص ۳۵)
 (9 ) خراسانی عالم کی توبہ
    ايک مرتبہ کوئی خراسانی عالم صاحب' حضرت قطب الدين اولياء ابواسحق ابراہيم علیہ الرحمۃکے بیان ميں شريک تھے۔ پورے مجمع ميں آپ کے پُر اثر وعظ سے ايک وجدانی کیفيت طاری تھی ۔اس وقت خراسانی عالم صاحب کے دل میں یہ بات آئی کہ ميرا علم شيخ سے کہيں زائد ہے ليکن جو مقبوليت انہیں حاصل ہے وہ مجھے تمام علوم پر دسترس کے باوجود بھی حاصل نہيں ۔''

    سیدناابواسحق ابراہيم علیہ الرحمۃنے اسی وقت اپنے نورِ باطن سے اس عالم کی نيت کو بھانپ کر اجتماع کو مخاطب کر کے فرمايا :''اس قنديل کی طرف ديکھو ، آج قنديل کا تيل اور پانی آپس ميں باتيں کر رہے ہيں ۔پانی کا کہنا ہے کہ خدا عزوجل نے مجھے ہر شے پر فوقيت عطا کی ہے کيونکہ اگر ميرا وجود نہ ہوتا تو لوگ شديد پياس سے مر جاتے اور يہ مرتبہ تجھے حاصل نہيں، اس کے باوجود تو ميرے اوپر آجاتا ہے ۔اس کے جواب ميں تيل نے کہا کہ ميں منکسر المزاج ہوں اور تجھ ميں غرور و تکبر ہے کيونکہ ميرا بیج پہلے زمين ميں ڈالا گياپھر پودا نکلنے کے بعد مجھے کاٹ کر کوہلو ميں پِیلا گيا، اس کے بعد ميں نے خود کو جلا جلا کر دنيا کو روشنی عطا کی اور جس قدر اذيتيں مجھے پہنچائی گئيں ميں نے ان سب کو نظر
Flag Counter