| توبہ کی روایات وحِکایات |
آپ کے پاس پہنچا اور آپ کے نماز سے فارغ ہونے کے بعدانہوں نے آپ سے عرض کی کہ'' ہم باہمی طور پر کئے گئے متفقہ فيصلے سے آپ کو مسجد کا متولی بنانا چاہتے ہيں۔''آپ نے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں عرض کی :''اے اللہ !ميں ايک سال تک ريا کارانہ عبادت ميں اس ليے مشغول رہا کہ مجھے مسجد کی توليت حاصل ہو جائے مگر ايسا نہ ہوا اب جبکہ ميں صدق دل سے تيری عبادت ميں مشغول ہوا تو تيرے حکم سے تمام لوگ مجھے متولی بنانے آ پہنچے اور ميرے اوپر يہ بار ڈالنا چاہتے ہيں،ليکن ميں تير ی عظمت کی قسم کھاتا ہوں کہ ميں نہ تو اب توليت قبول کروں گا اور نہ مسجد سے باہر نکلوں گا ۔''يہ کہہ کر پھر عبادت ميں مشغول ہو گئے ۔
(تذکر ۃ الاولياء،باب چہارم،ذکر مالک دینار رحمۃ اللہ ،ج ۱ ،ص ۴۸ ،۴۹)
(7 ) ایک ڈاکو کی توبہ
حضرت سَیِّدُنا فضیل بن عیاض علیہ الرحمۃ بہت نامور محدث اور مشہور اولیائے کرام میں سے ہیں ۔ یہ پہلے زبردست ڈاکو تھے ۔ ایک مرتبہ ڈاکہ ڈالنے کی غرض سے کسی مکان کی دیوار پر چڑھ رہے تھے کہ اتفاقاً اس وقت مالک مکان قرآن مجید کی تلاوت میں مشغول تھا ۔ اس نے یہ آیت پڑھی ،
اَلَمْ یَاۡنِ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡ تَخْشَعَ قُلُوۡبُہُمْ لِذِکْرِ اللہِ
ترجمہ کنزالایمان :کیاایمان والوں کو ابھی وہ وقت نہ آیا کہ ان کے دل جھک جائیں اللہ کی یاد (کے لئے )۔(پ۲۷، الحدید:۱۶)
جونہی یہ آیت آپ کی سماعت سے ٹکرائی ،گویا تاثیرِ ربّانی کا تیر بن کر دل میں پیوست ہوگئی اور اس کا اتنا اثر ہوا کہ آپ خوفِ خدا عزوجل سے کانپنے لگے اور بے اختیار آپ کے منہ سے نکلا ، ''کیوں نہیں میرے پروردگار عزوجل ! اب اس کا وقت آگیا ہے ۔''