| توبہ کی روایات وحِکایات |
بوتل ميں شراب تھی ،نوجوان نے اسے شراب کہنے ميں شرمندگی محسوس کی ۔اس نے دل ميں دعا کی ''يا اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ !مجھے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے شرمندہ اور رسوا نہ فرمانا، ان کے ہاں ميری پردہ پوشی فرمانا ،ميں کبھی شراب نہيں پيوں گا ۔''اس کے بعد نوجوان نے عرض کيا : ''اے امير المؤمنين !ميں سرکہ(کی بوتل )اٹھائے ہوئے ہوں ۔'' آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمايا:''مجھے دکھاؤ!''جب اس نے وہ بوتل آپ کے سامنے کی اور حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے ديکھا 'تو وہ سرکہ تھا ۔
(مکاشفۃ القلوب ،الباب الثامن فی التو بۃ ، ص ۲۷ ۔۲۸)
(6 ) ریاکاری سے توبہ
حضر ت مالک بن دينار علیہ الرحمۃ دمشق ميں سکونت پذير تھے اور حضرت امير معاويہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تيار کردہ مسجد ميں اعتکاف کيا کرتے تھے ۔ايک مرتبہ ان کے دل میں خيال آيا کہ کوئی ايسی صورت پيدا ہو جائے کہ مجھے اس مسجد کا متولی بنا ديا جائے ۔چنانچہ آپ نے اعتکاف میں اضافہ کردیا اور اتنی کثرت سے نمازيں پڑھيں کہ ہر شخص آپ کو ہمہ وقت نماز ميں مشغول ديکھتا ۔ليکن کسی نے آپ کی طرف توجہ نہيں کی ۔ ایک سال اسی طرح گزر گیا۔ ایک مرتبہ آپ مسجد سے باہر آئے تو ندائے غيبی آئی :''اے مالک !تجھے اب توبہ کرنی چاہيے ۔''
یہ سن کر آپ کو ايک سال تک اپنی خود غرضانہ عبادت پر شديد رنج و شرمندگی ہوئی اور آپ اپنے قلب کو ريا سے خالی کر کے خلوصِ نيت کے ساتھ ساری رات عبادت میں مشغول رہے ۔ صبح کے وقت مسجد کے دروازے پر لوگوں کاايک مجمع موجود تھا،اور لوگ آپس ميں کہہ رہے تھے کہ'' مسجد کا انتظام ٹھيک نہيں ہے لہذا اسی شخص کو متولی مسجد بنا ديا جائے اور تمام انتظامی امور اس کے سپرد کر ديے جائيں ۔''سارا مجمع اس بات پر متفق ہو کر