Brailvi Books

توبہ کی روایات وحِکایات
58 - 124
تيرے سامنے نہ تھی :
وَالَّذِیۡنَ لَا یَدْعُوۡنَ مَعَ اللہِ اِلٰـہًا اٰخَرَ وَ لَا یَقْتُلُوۡنَ النَّفْسَ الَّتِیۡ حَرَّمَ اللہُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لَا یَزْنُوۡنَ
ترجمہ کنزالایمان :اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہيں پوجتے اور اس جان کو جس کی اللہ نے حرمت رکھی ناحق نہيں مارتے اور بدکاری نہيں کرتے۔''(پ۱۹، الفرقان :۶۸)
فَاُولٰٓئِکَ یُبَدِّلُ اللہُ سَیِّاٰتِہِمْ حَسَنٰتٍ ؕ وَکَانَ اللہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿۷۰﴾
ترجمہ کنزالايمان :تو ايسوں کی برائيوں کو اللہ بھلائيوں سے بدل دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔''(پ ۱۹ ،الفرقان: ۷۰)

    يہ سن کر ميں آپ اکی بارگاہ سے نکل کرمدينہ شریف کی گليوں ميں دوڑ دوڑ کر کہتا تھا کہ ہے کوئی جو مجھے فلاں فلاں اوصاف والی عورت کے بارے ميں بتائے ۔ حتی کہ رات کے وقت مجھے وہ عورت اسی جگہ ملی ۔ميں نے اسے بتاياکہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمايا ہے کہ ''اس کی تو بہ قبول ہو سکتی ہے ''اب اس نے خوشی سے چيخ ماری اور کہنے لگی : ''ميرا ايک باغيچہ ہے جسے ميں اپنے گناہ کے کفّارہ کے طور پر مساکين کے ليے صدقہ کرتی ہوں ۔''
 (تنبيہ الغافلين، باب آخر من التو بۃ ، ص۶۰۔۶۱)
 (5 ) شرابی نوجوان کی توبہ
    حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ  ايک بار مدينہ منورہ کی ايک گلی سے گزر رہے تھے کہ ايک نوجوان سامنے آيا۔اس نے کپڑوں کے نیچے ايک بوتل چھپا رکھی تھی۔ حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے پوچھا :''اے نوجوان!يہ کپڑوں کے نیچے کيا اٹھا رکھا ہے ؟'' اس
Flag Counter